
بینک آف کینیڈا نے شرح سود بڑھا کر 2.50 فیصد کر دی، مزید اضافے کا امکان
بینک آف کینیڈا نے پالیسی شرح سود 25 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 2.50 فیصد کر دی، مسلسل بلند مہنگائی اور توقع سے بہتر معاشی نمو کو فیصلے کی اہم وجوہات قرار دیا۔
29 اکتوبر، 2026بینک آف کینیڈا نے پالیسی شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافہ کر کے اسے 2.50 فیصد کر دیا۔ مرکزی بینک نے فیصلے کی وجوہات میں دوسری سہ ماہی میں توقع سے بہتر 3.3 فیصد اقتصادی نمو، تیسری سہ ماہی کی قریباً 2 فیصد نمو کے اندازے اور حالیہ عرصے میں تقریباً 3 فیصد کے ارد گرد موجودہ مہنگائی (جس میں توانائی کی بلند قیمتوں کا اہم کردار ہے) کو قرار دیا۔ بینک نے کہا کہ سال کے آخر تک مہنگائی تقریباً 3.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، 2027 میں اوسط تقریباً 3 فیصد رہنے کے بعد 2028 کے وسط تک دو فیصد ہدف کی جانب واپس آ سکتی ہے، اور 2026 کے لیے مجموعی معاشی نمو تقریباً ایک فیصد جبکہ 2027‑28 میں سالانہ تقریباً دو فیصد رہنے کی پیش گوئی بھی کی۔ بینک نے خبردار کیا کہ اگر توانائی اور دیگر لاگتی دباؤ وسیع پیمانے پر قیمتوں اور اجرتوں میں منتقل ہونے لگیں تو مزید شرح سود بڑھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، تاہم پالیسی ساز آئندہ فیصلوں میں محتاط رہیں گے کیونکہ بلند شرح سود قرض اور سرمایہ کاری کی لاگت بڑھا سکتی ہے اور معاشی سرگرمی کو کمزور کر سکتی ہے۔ یہ فیصلہ عالمی مرکزی بینکوں کے ایک اہم ہفتے کے دوران سامنے آیا اور آئندہ راستہ نئے معاشی اعداد و شمار اور مہنگائی کی رفتار پر منحصر ہوگا۔