اوٹاوا: بینک آف کینیڈا نے اپنی بنیادی پالیسی شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافہ کرتے ہوئے اسے 2.50 فیصد کر دیا ہے۔ مرکزی بینک نے کہا کہ کینیڈا کی معاشی نمو توقع سے بہتر رہی ہے جبکہ مہنگائی جولائی میں کیے گئے اندازوں کے مقابلے میں زیادہ اور زیادہ دیرپا ثابت ہوئی، اس لیے قیمتوں کے دباؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے مالیاتی پالیسی مزید سخت کی گئی۔

بینک کے مطابق کینیڈا کی معیشت نے دوسری سہ ماہی میں 3.3 فیصد کی رفتار سے نمو کی اور تیسری سہ ماہی کی رفتار تقریباً 2 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ تاہم امریکی محصولات اور عالمی تجارتی غیر یقینی سال کے آخر میں سرگرمی کو سست کر سکتے ہیں۔ مرکزی بینک نے 2026 کے لیے مجموعی معاشی نمو تقریباً ایک فیصد اور 2027 اور 2028 کے لیے سالانہ دو فیصد کے قریب رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔

مہنگائی حالیہ عرصے میں تقریباً 3 فیصد کے آس پاس رہی ہے، جس میں بلند تیل قیمتوں کا اہم کردار بتایا گیا۔ بینک کا اندازہ ہے کہ سال کے آخر تک مہنگائی تقریباً 3.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، 2027 میں اوسط تقریباً 3 فیصد رہنے کے بعد 2028 کے وسط تک دو فیصد کے ہدف کی طرف واپس آ سکتی ہے۔ یہ پیش گوئیاں توانائی کی قیمتوں، تجارتی حالات اور گھریلو طلب میں تبدیلی کے ساتھ بدل سکتی ہیں۔

مرکزی بینک نے واضح کیا کہ اگر توانائی اور دیگر لاگت کے دباؤ وسیع پیمانے پر قیمتوں اور اجرتوں میں منتقل ہونے لگے تو مزید شرح سود بڑھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ساتھ ہی پالیسی سازوں نے کہا کہ وہ آئندہ فیصلوں میں احتیاط سے کام لیں گے کیونکہ زیادہ شرح سود قرض، رہن اور کاروباری سرمایہ کاری کی لاگت بڑھاتی ہے اور کمزور معاشی سرگرمی کا خطرہ بھی پیدا کر سکتی ہے۔

کینیڈا کا فیصلہ عالمی مرکزی بینکوں کے ایک اہم ہفتے میں سامنے آیا ہے، جب امریکا سمیت بڑی معیشتیں مہنگائی اور نمو کے متضاد اشاروں کا جائزہ لے رہی ہیں۔ موجودہ اضافہ فوری طور پر مزید اضافوں کی ضمانت نہیں؛ آئندہ راستہ نئے معاشی اعداد و شمار اور مہنگائی کی رفتار پر منحصر ہوگا۔