وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کے کم لاگت ہاؤسنگ پروگرام ’’اپنا گھر‘‘ کے تحت بینکوں نے اب تک 511 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی ہے، جبکہ 91 ارب روپے کی رقم درخواست گزاروں کو جاری کی جا چکی ہے۔ انہوں نے ہاؤسنگ فنانس سے متعلق ایک تقریب میں کہا کہ حکومت اور مالیاتی ادارے گھروں کی ملکیت کو کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کے لیے قابل رسائی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیر خزانہ کے مطابق اسکیم کے تحت قرض کی منظوری اور اصل رقم کے اجرا کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے، جسے کم کرنے کے لیے بینکوں اور متعلقہ اداروں کو درخواستوں کی تکمیل، دستاویزات اور جائیداد سے متعلق قانونی مراحل تیز کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ فنانس صرف تعمیراتی شعبے کی سرگرمی نہیں بلکہ روزگار، سیمنٹ، اسٹیل، تعمیراتی سامان اور دیگر منسلک صنعتوں کے لیے بھی معاشی سرگرمی پیدا کرتا ہے۔

حکومت نے رہائشی قرضوں تک رسائی بڑھانے کے لیے مالیاتی شعبے کے ساتھ مل کر ایسے ماڈلز پر کام کیا ہے جن میں کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے ماہانہ ادائیگی نسبتاً قابل برداشت رکھی جا سکے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ طویل مدتی رہائشی فنانس کے لیے میکرو اکنامک استحکام، شرح سود میں پائیدار کمی اور مالیاتی اداروں کے اعتماد کی اہمیت بنیادی ہے۔

انہوں نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ صرف بڑے شہروں اور روایتی تنخواہ دار طبقے تک محدود رہنے کے بجائے غیر رسمی آمدنی رکھنے والے افراد، چھوٹے کاروباری طبقے اور نسبتاً کم بینکاری رسائی والے علاقوں کے لیے بھی قابل عمل کریڈٹ جانچ کے طریقے تیار کریں۔ پاکستان میں رہائشی یونٹس کی طلب اور دستیاب گھروں کے درمیان فرق طویل عرصے سے ایک اہم معاشی و سماجی مسئلہ رہا ہے، جبکہ بلند زمین کی قیمت، تعمیراتی لاگت اور رسمی رہن مارکیٹ کا محدود حجم گھروں کی ملکیت میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

511 ارب روپے کی منظوری کو اسکیم کے تحت بینکوں کی مجموعی منظور شدہ فنانسنگ سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ اتنی ہی رقم کے فوری سرکاری اخراجات۔ اسی طرح 91 ارب روپے کا عدد حقیقی طور پر جاری ہونے والی فنانسنگ کی نمائندگی کرتا ہے۔ پروگرام کی کامیابی کا حتمی جائزہ قرضوں کے اجرا، مکمل ہونے والے رہائشی منصوبوں، ادائیگی کی کارکردگی اور کم آمدنی والے گھرانوں تک حقیقی رسائی جیسے نتائج کی بنیاد پر ہی کیا جا سکے گا۔