اسلام آباد: ورلڈ بینک نے خیبر پختونخوا میں پن بجلی اور قابل تجدید توانائی کے ایک بڑے منصوبے کی پیش رفت کو درپیش تاخیر اور عملدرآمدی مشکلات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ بینک کی تازہ عملدرآمدی جائزہ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا ہائیڈرو پاور اینڈ رینیوایبل انرجی ڈیولپمنٹ پراجیکٹ کی پیش رفت کے بعض پہلوؤں کو ’معتدل غیر تسلی بخش‘ قرار دیا گیا ہے، جبکہ مجموعی منصوبے کے خطرے کی سطح ’خاصی‘ بتائی گئی ہے۔

یہ منصوبہ 2020 میں عالمی بینک کی مالی معاونت کے ساتھ شروع کیا گیا تھا اور اس کا مقصد صوبے میں قابل تجدید بجلی کی پیداوار بڑھانا، پن بجلی کے وسائل کو ترقی دینا اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنا ہے۔ منصوبے کے اہم اجزا میں گبرال کالام ہائیڈرو پاور منصوبہ اور متعلقہ ٹرانسمیشن و ادارہ جاتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض معاہدوں، تعمیراتی سرگرمیوں اور انتظامی مراحل میں تاخیر نے طے شدہ اہداف کے حصول کو متاثر کیا ہے۔

ورلڈ بینک نے منصوبے کی مجموعی عملدرآمدی پیش رفت کو ایک سطح پر ’معتدل تسلی بخش‘ بھی قرار دیا، تاہم ترقیاتی مقصد کے حصول سے متعلق درجہ بندی اور مخصوص اجزا کی کارکردگی میں کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی۔ اس فرق کا مطلب یہ ہے کہ منصوبہ مکمل طور پر ناکام قرار نہیں دیا گیا، بلکہ اس کے مختلف اشاریوں اور سرگرمیوں کی کارکردگی الگ الگ جانچی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا میں پن بجلی کی نمایاں صلاحیت موجود ہے اور صوبائی حکومت طویل عرصے سے دریاؤں اور پہاڑی علاقوں میں چھوٹے اور بڑے ہائیڈرو پاور منصوبوں کو توانائی کی فراہمی اور آمدن کے ممکنہ ذرائع کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ تاہم دور دراز جغرافیہ، زمین کے حصول، تعمیراتی لاگت، موسمی حالات، ٹھیکوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی جیسے عوامل ایسے منصوبوں کی رفتار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

عالمی بینک کی نگرانی میں جاری منصوبوں کی درجہ بندی وقتاً فوقتاً تبدیل ہو سکتی ہے۔ ’معتدل غیر تسلی بخش‘ درجہ بندی کسی منصوبے کی منسوخی کا خودکار فیصلہ نہیں ہوتی بلکہ یہ اس بات کا اشارہ ہوتی ہے کہ اہداف حاصل کرنے کے لیے اصلاحی اقدامات، بہتر نگرانی یا تیز عملدرآمد درکار ہے۔ اسی طرح ’خاصا خطرہ‘ منصوبے کے مالی، ادارہ جاتی، تکنیکی یا دیگر خطرات کے مجموعی جائزے کی عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صوبائی توانائی منصوبے کے فوائد حاصل کرنے کے لیے زیر التوا کاموں، معاہدوں اور تعمیراتی مراحل کو مقررہ مدت میں آگے بڑھانا اہم ہوگا۔ آئندہ جائزوں میں درجہ بندی اس بات پر منحصر ہوگی کہ متعلقہ صوبائی ادارے اور منصوبہ انتظامیہ موجودہ رکاوٹوں کو کس حد تک دور کرتے ہیں اور عملی پیش رفت کس رفتار سے ہوتی ہے۔