اسلام آباد: پاکستان اور قطر کے درمیان طویل مدتی ایل این جی سپلائی معاہدوں کی قیمتوں اور کارگو حجم پر نظرثانی کے مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، تاہم حتمی معاہدہ ابھی حکومتی منظوری سے مشروط ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے پاکستان اسٹیٹ آئل کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ قطر انرجی نے دونوں معاہدوں کے لیے برینٹ خام تیل کی قیمت کے 11.96 فیصد پر مبنی حتمی قیمت کی پیشکش کی ہے، جس پر پاکستان کو فیصلہ کرنا ہے۔
پاکستان اور قطر کے درمیان اس وقت دو طویل مدتی ایل این جی سیل اینڈ پرچیز معاہدے موجود ہیں۔ پہلا معاہدہ 2016 سے 2031 تک 15 سال کے لیے ہے جبکہ دوسرا 2021 سے 2031 تک 10 سال کے لیے طے پایا تھا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے پہلے معاہدے کی قیمت 13.37 فیصد برینٹ سے کم کرکے 10.20 فیصد کرنے کی درخواست کی تھی۔ قطر انرجی نے اس مخصوص سطح کو قبول نہیں کیا، جبکہ مذاکرات میں مختلف متبادل شرحیں زیر بحث آئیں۔
ذرائع کے مطابق قطر کی حتمی پیشکش 2027 سے 2031 کے عرصے میں سالانہ 66 کارگوز کے لیے ہے، جبکہ موجودہ انتظام کے تحت سالانہ 108 کارگوز کی مقدار طے تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 210 ایل این جی کارگوز کو 2031 کے بعد چار سال کے عرصے تک مؤخر کرنے کی تجویز شامل ہے۔ پی ایس او حکومت سے منظوری چاہتا ہے تاکہ 3 نومبر تک معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔
دونوں موجودہ معاہدے حکومت سے حکومت کی بنیاد پر پاکستان اسٹیٹ آئل اور قطر انرجی کے درمیان طے ہوئے تھے اور ان میں ٹیک اور پے نوعیت کی شرائط شامل ہیں۔ پاکستان میں بجلی کے شعبے کی گیس طلب کم ہونے کے بعد سسٹم میں درآمدی ایل این جی کی زائد مقدار ایک اہم مسئلہ بن گئی تھی۔ اسی پس منظر میں حکومت نے پہلے بھی پی ایس او کو قطر انرجی سے کارگوز کی تعداد کم کرنے کے لیے مذاکرات کی اجازت دی تھی۔
رپورٹ کے مطابق 2026 کے سالانہ ڈیلیوری پلان میں نیٹ پروسیڈز ڈیفرینشل انتظام کے تحت 24 کارگوز کم کیے گئے۔ دونوں معاہدوں میں قیمت کے باقاعدہ جائزے کی گنجائش موجود تھی اور مارچ 2026 میں فریقین نے متعلقہ قیمت جائزہ نوٹس جاری کیے تھے۔ اس عمل کا مقصد باقی مدت کے لیے قیمت کو موجودہ مارکیٹ حالات اور قابل تقابل ایل این جی معاہدوں کے مطابق دیکھنا ہے۔
مذاکرات کا نتیجہ پاکستان کی درآمدی توانائی لاگت، گیس سسٹم میں اضافی سپلائی اور سرکاری اداروں کی مالی ذمہ داریوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم اس مرحلے پر 11.96 فیصد کی شرح اور 66 سالانہ کارگوز کو حتمی نافذ شدہ معاہدہ نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے سرکاری منظوری اور فیصلہ ابھی باقی ہے۔
