امریکا اور بھارت ایک تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کا مقصد دوطرفہ تجارت میں محصولات اور دیگر رکاوٹوں کو کم کرنا ہے، جبکہ روس سے بھارتی خام تیل کی خریداری مذاکرات کا ایک اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ امریکی اور بھارتی حکام کے درمیان حالیہ رابطوں میں ممکنہ معاہدے کی شرائط پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم خبر شائع ہونے تک مکمل متن یا باضابطہ حتمی اعلان سامنے نہیں آیا تھا۔
واشنگٹن طویل عرصے سے بھارتی منڈی میں امریکی مصنوعات کے لیے زیادہ رسائی اور بعض بلند درآمدی محصولات میں کمی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ نئی دہلی کی ترجیح بھارتی برآمدات پر امریکی محصولات اور تجارتی پابندیوں میں نرمی حاصل کرنا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سامان اور خدمات کی تجارت بڑے حجم کی ہے، اس لیے کسی معاہدے کا اثر ٹیکسٹائل، انجینئرنگ، زرعی مصنوعات، توانائی اور ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں پر پڑ سکتا ہے۔
مذاکرات کا ایک حساس پہلو روس سے بھارت کی تیل خریداری ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد بھارت نے رعایتی روسی خام تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ کیا تھا، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی ماسکو کی توانائی آمدنی محدود کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ نئی دہلی روسی تیل پر انحصار کم کرے، لیکن بھارت ماضی میں اپنی توانائی ضروریات اور قیمتوں کو قومی مفاد کا معاملہ قرار دیتا رہا ہے۔
ممکنہ تجارتی سمجھوتے میں محصولات کی شرح، مخصوص مصنوعات کے لیے منڈی تک رسائی اور توانائی خریداری سے متعلق وعدوں کی نوعیت اہم ہوگی۔ اگر دونوں حکومتیں معاہدے کا اعلان کرتی ہیں تو کاروباری اداروں کے لیے اصل اثر اس وقت واضح ہوگا جب تفصیلی ٹیرف شیڈول، نفاذ کی تاریخیں اور استثنا سامنے آئیں گے۔
امریکا اور بھارت اسٹریٹجک شراکت داری کو چین کے بڑھتے اثر و رسوخ، دفاعی تعاون اور بحرہند و بحرالکاہل کی سیاست کے تناظر میں بھی اہم سمجھتے ہیں۔ اس کے باوجود تجارت میں زرعی تحفظ، ڈیجیٹل ضوابط، مقامی صنعت کی حفاظت اور توانائی پالیسی جیسے اختلافات برقرار رہے ہیں۔ موجودہ پیش رفت کو حتمی معاہدہ نہیں سمجھا جا سکتا؛ دونوں فریقوں کی جانب سے باضابطہ دستاویز جاری ہونے کے بعد ہی محصولات اور روسی تیل سے متعلق ذمہ داریوں کی درست حد واضح ہوگی۔
