کراچی: پاکستان میں بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کے آلات کی درآمد 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران 4.5 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی، جو ملک کی مجموعی رپورٹ شدہ 9.5 گیگاواٹ بیٹری اسٹوریج درآمدات کا تقریباً نصف بنتی ہے۔ یہ اعداد پارلیمانی فورم برائے توانائی و معیشت کے زیر اہتمام اعلیٰ سطحی مکالمے میں پیش کیے گئے، جہاں بجلی کے شعبے میں بیٹری اسٹوریج کے مستقبل اور اس کے لیے ریگولیٹری انتظامات پر گفتگو ہوئی۔

دی ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق گھریلو صارفین اور صنعتوں میں توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے، جس کی ایک اہم وجہ مہنگے بجلی ٹیرف سے بچنے اور اپنی توانائی کے استعمال کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ شمسی توانائی کے پھیلاؤ کے ساتھ بیٹریاں دن کے وقت پیدا ہونے والی بجلی کو بعد کے استعمال کے لیے محفوظ کرنے کی سہولت دیتی ہیں، جس سے صارفین گرڈ سے بجلی لینے کے اوقات اور مقدار میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔

4.5 گیگاواٹ اور 9.5 گیگاواٹ کے اعداد مکالمے میں پیش کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔ بیٹری اسٹوریج کی گنجائش کو بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے ساتھ براہ راست یکساں نہیں سمجھا جانا چاہیے کیونکہ اسٹوریج نظام کی عملی افادیت میں توانائی کی مدت، یعنی کتنے گھنٹے بجلی فراہم کی جا سکتی ہے، بیٹری کی کیمسٹری، کارکردگی اور استعمال کا طریقہ بھی اہم ہوتا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں تمام درآمد شدہ نظاموں کی گیگاواٹ آور صلاحیت کی تفصیل نہیں دی گئی۔

بیٹری اسٹوریج کے تیز پھیلاؤ سے پاکستان کے بجلی کے نظام کے لیے مواقع اور نئے ریگولیٹری سوالات دونوں پیدا ہوتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر ذخیرہ کرنے کی صلاحیت شمسی اور دیگر متغیر قابل تجدید توانائی کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے، طلب کے عروج کے اوقات میں گرڈ پر دباؤ کم کرنے اور بعض صارفین کو بیک اپ فراہم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ دوسری طرف گرڈ منصوبہ بندی، نرخوں، نیٹ میٹرنگ یا دیگر تقسیم شدہ توانائی قواعد اور بیٹریوں کی محفوظ تنصیب و تلفی کے لیے واضح معیار ضروری ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران شمسی پینلز کی درآمد اور چھتوں پر سولر تنصیبات میں تیزی آئی ہے۔ بیٹری اسٹوریج کی نئی لہر اس تبدیلی کا اگلا مرحلہ بن سکتی ہے، خصوصاً ان صارفین کے لیے جو دن کے وقت پیدا ہونے والی شمسی بجلی کو شام یا رات میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

پارلیمانی مکالمے کا مقصد توانائی اور معیشت کے باہمی تعلق کے تناظر میں پالیسی سمت پر بحث کرنا تھا۔ پیش کیے گئے درآمدی اعداد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بیٹری اسٹوریج اب محدود بیک اپ ٹیکنالوجی کے بجائے پاکستان کے توانائی منظرنامے کا تیزی سے بڑھتا ہوا حصہ بن رہی ہے، تاہم اس کے مکمل نظامی اثرات کا انحصار ریگولیشن، گرڈ انضمام اور صارفین کے استعمال کے طریقوں پر ہوگا۔