اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں کام کرنے والے مقامی اور غیر ملکی بینکوں کے ساتھ ترقیاتی مالیاتی اداروں کے لیے کم از کم سرمائے کی شرائط میں اضافہ کر دیا ہے۔ مرکزی بینک کے جاری کردہ سرکلر کے مطابق پاکستان میں مقامی طور پر قائم بینکوں، جن میں بینکوں کے اسلامی بینکاری ذیلی ادارے بھی شامل ہیں، کے لیے Minimum Capital Requirement یعنی کم از کم سرمایہ 20 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے اس فیصلے کی وجہ مالیاتی ادارے قائم کرنے اور انہیں پائیدار بنیادوں پر چلانے سے وابستہ بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کو قرار دیا۔ نئی شرائط نئے اداروں کے ساتھ موجودہ بینکوں پر بھی لاگو ہوں گی، تاہم پہلے سے کام کرنے والے بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کو مطلوبہ سرمایہ پورا کرنے کے لیے 31 دسمبر 2030 تک مہلت دی گئی ہے۔
پاکستان میں شاخوں کے ذریعے کام کرنے والے غیر ملکی بینکوں کے لیے الگ سطحیں مقرر کی گئی ہیں۔ پانچ تک شاخیں رکھنے والے غیر ملکی بینک کو نقصانات منہا کرنے کے بعد کم از کم پانچ ارب روپے assigned capital برقرار رکھنا ہوگا، جبکہ چھ سے 50 شاخوں والے غیر ملکی بینکوں کے لیے یہ حد 10 ارب روپے ہوگی۔ ترقیاتی مالیاتی اداروں، یعنی DFIs، کے لیے بھی کم از کم سرمایہ 10 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
مرکزی بینک نے واضح کیا کہ بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962 کی دفعہ 21 کے تحت قائم قانونی ذخائر کو بھی کم از کم سرمائے کے حساب میں شامل کیا جا سکے گا، اس کے علاوہ وہ اجزا بھی شامل رہیں گے جن کی اجازت 2013 کے متعلقہ ضابطے میں دی گئی تھی۔ تاہم کم از کم سرمایہ پورا کرنے کے لیے شمار کیے گئے قانونی ذخائر اسٹیٹ بینک کی پیشگی اجازت کے بغیر نکالے نہیں جا سکیں گے۔
کم از کم سرمائے کی شرط کا بنیادی مقصد مالیاتی اداروں کے پاس ایسا مضبوط سرمایہ جاتی بفر یقینی بنانا ہے جو خراب قرضوں، معاشی مندی یا غیر متوقع مالی نقصانات کو جذب کرنے میں مدد دے۔ اس سے ڈپازٹرز کے تحفظ اور بینکاری نظام پر اعتماد کو بھی سہارا ملتا ہے۔ نئی حد کا عملی اثر ہر بینک کی موجودہ سرمایہ جاتی پوزیشن کے لحاظ سے مختلف ہوگا؛ جن اداروں کا اہل سرمایہ پہلے ہی مقررہ سطح سے زیادہ ہے ان پر فوری سرمایہ بڑھانے کا دباؤ کم ہوگا، جبکہ کم سطح والے اداروں کو 2030 کی آخری تاریخ تک اضافی سرمایہ جمع کرنا ہوگا۔

