اسلام آباد: ورلڈ بینک نے 727 ملین ڈالر مالیت کے خیبر پختونخوا ہائیڈرو پاور اینڈ رینیوایبل انرجی ڈیولپمنٹ منصوبے کے ترقیاتی اہداف کی جانب پیش رفت کو "معتدل طور پر غیر تسلی بخش" قرار دیا ہے، جبکہ منصوبے کے مجموعی خطرے کی درجہ بندی "نمایاں" رکھی گئی ہے۔ منصوبے کا مقصد صوبائی اداروں کی صلاحیت مضبوط کرنا اور قابل تجدید توانائی کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔

ورلڈ بینک کی عوامی دستاویز کے مطابق قرض کی منظوری 2020 میں دی گئی تھی اور منصوبے کی ہدفی تکمیل کی تاریخ 30 نومبر 2027 ہے۔ ترقیاتی مقاصد کی جانب پیش رفت کی کمزور درجہ بندی کے باوجود بینک نے مجموعی implementation progress کو "معتدل طور پر تسلی بخش" قرار دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف اشاریوں پر منصوبے کی کارکردگی یکساں نہیں ہے۔

بینک کے جائزے میں سیاسی و حکمرانی اور تکنیکی ڈیزائن سے متعلق خطرات کو معتدل قرار دیا گیا، جبکہ میکرو اکنامک حالات، ادارہ جاتی صلاحیت، مالیاتی و انتظامی امور اور ماحولیاتی و سماجی پہلوؤں سے پیدا ہونے والے خطرات کو نمایاں سطح پر رکھا گیا ہے۔ ورلڈ بینک کے طریقۂ کار میں خطرات کو high، substantial، moderate یا low کی سطحوں پر جانچا جاتا ہے، جس میں کسی خطرے کے وقوع پذیر ہونے کے امکان اور اس کے ممکنہ اثر دونوں کو دیکھا جاتا ہے۔

دستاویز کے مطابق منصوبے کی restructuring بھی کی گئی ہے تاکہ اس کے دائرۂ کار اور مالی وسائل کو حکومت کی عملدرآمد ترجیحات سے بہتر طور پر ہم آہنگ کیا جا سکے۔ ورلڈ بینک نے ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ حالیہ عرصے میں implementation نے رفتار پکڑی ہے اور Gabral-Kalam Hydropower Project کے تحت بعض اہم milestones حاصل ہوئے ہیں۔

ان پیش رفتوں میں سول ورکس کا آغاز، زمین کے حصول میں پیش رفت اور electro-mechanical works کی procurement آگے بڑھنا شامل ہے۔ بینک نے واضح کیا کہ آئندہ توجہ بروقت عملدرآمد، مؤثر contract management اور متعلقہ ماحولیاتی و سماجی تقاضوں کی پابندی پر مرکوز رہے گی۔

یہ درجہ بندی منصوبے کی منسوخی یا قرض کے فوری خاتمے کا اعلان نہیں ہے بلکہ ورلڈ بینک کی نگرانی کے تحت موجود خطرات اور اہداف کی جانب پیش رفت کا جائزہ ہے۔ منصوبے کی موجودہ مقررہ تکمیل نومبر 2027 ہے، اس لیے باقی مدت میں تعمیراتی رفتار، خریداری، زمین کے حصول اور ادارہ جاتی انتظام جیسے عوامل حتمی کارکردگی کے لیے اہم رہیں گے۔