حکومت پاکستان نے ٹریژری بلز کی تازہ نیلامی کے ذریعے مجموعی طور پر 1.913 کھرب روپے حاصل کیے ہیں، جو 1.65 کھرب روپے کے مقررہ نیلامی ہدف سے زیادہ ہیں۔ نیلامی میں بینکوں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے تقریباً 4.867 کھرب روپے کی بولیاں موصول ہوئیں، جو سرکاری قلیل مدتی قرضہ جاتی کاغذات میں مالیاتی شعبے کی مضبوط طلب کی عکاسی کرتی ہیں۔
نیلامی ایسے وقت ہوئی جب اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں پالیسی ریٹ میں اضافہ کیا ہے۔ اس تبدیلی کا اثر ٹی بلز کی کٹ آف ییلڈز پر بھی پڑا اور مختلف مدتوں میں شرح منافع 61 بیسس پوائنٹس تک بڑھی۔ حکومت نے تین ماہ کے بلز کے ذریعے سب سے زیادہ 783.5 ارب روپے حاصل کیے، جن کی کٹ آف ییلڈ 12.42 فیصد رہی۔
ایک ماہ کے ٹی بلز سے 473 ارب روپے 12.1 فیصد شرح پر حاصل کیے گئے۔ چھ ماہ کے بلز کے ذریعے 169.5 ارب روپے کی رقم 12.65 فیصد ییلڈ پر جبکہ 12 ماہ کے بلز کے ذریعے 242.7 ارب روپے 12.89 فیصد شرح پر اکٹھے کیے گئے۔ مجموعی 1.913 کھرب روپے میں 244.4 ارب روپے کی non-competitive bids بھی شامل تھیں۔
نیلامی کے وقت میچور ہونے والی رقم تقریباً 1.195 کھرب روپے تھی، اس لیے حکومت کی نئی حاصل کردہ رقم میچورٹی سے بھی زیادہ رہی۔ مالیاتی اداروں کی جانب سے تقریباً 4.9 کھرب روپے کی پیشکش سے ظاہر ہوتا ہے کہ بینکاری نظام میں قابل سرمایہ کاری لیکویڈیٹی موجود ہے اور ادارے بلند شرح منافع کے ماحول میں کم خطرے والے سرکاری کاغذات کو ترجیح دے رہے ہیں۔
سرکاری ٹی بلز میں بڑی سرمایہ کاری سے حکومت کو قلیل مدتی مالی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملتی ہے، تاہم اگر بینک نسبتاً محفوظ سرکاری سکیورٹیز کو نجی شعبے کے قرضوں پر مسلسل ترجیح دیں تو کاروباری قرضوں کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔ حالیہ پالیسی ریٹ میں اضافے کے بعد حکومتی قرض لینے کی لاگت بھی بلند ہوئی ہے، کیونکہ نئی نیلامیوں میں سرمایہ کار زیادہ منافع طلب کرتے ہیں۔ تازہ نیلامی کے نتائج ایک ہی وقت میں حکومتی فنانسنگ کی طلب، بینکاری شعبے کی لیکویڈیٹی اور سخت تر مانیٹری ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔
