واشنگٹن: عالمی بینک نے اپنے تازہ کموڈیٹی مارکیٹس آؤٹ لک میں اندازہ لگایا ہے کہ 2026 میں عالمی اجناس کی مجموعی قیمتیں 23 فیصد بڑھ سکتی ہیں۔ ادارے نے توانائی کی بلند قیمتوں، مشرق وسطیٰ کی جنگ سے بحری تجارت میں رکاوٹ، بحیرہ اسود میں اناج کی ترسیل کے مسائل اور سونے جیسے محفوظ اثاثوں کی بڑھتی طلب کو اس اضافے کے اہم عوامل قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2026 میں عالمی توانائی کی قیمتوں میں 32 فیصد اضافہ ہوا اور یہ روس کے 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچیں۔ خام تیل کی پیداوار میں کمی کے باعث عالمی بینک نے برینٹ کی اوسط سالانہ قیمت تقریباً 92 ڈالر فی بیرل رہنے کا تخمینہ دیا ہے۔ ادارے کے مطابق تیل کی طلب میں 2.5 فیصد کمی متوقع نہ ہوتی تو قیمتوں کا دباؤ مزید زیادہ ہو سکتا تھا۔
خوراک کے شعبے میں عالمی بینک نے 2026 کے دوران قیمتوں میں 10 فیصد سے کچھ زیادہ اضافے کی پیش گوئی کی ہے، جس کی بڑی وجہ روس اور یوکرین کی جنگ سے بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل میں خلل بتایا گیا۔ رپورٹ میں 2027 کے دوران خوراک کی قیمتوں میں مزید سات فیصد سے زائد اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
ادارے نے ایک منفی منظرنامہ بھی پیش کیا ہے جس میں شدید ایل نینو، بلیک سی میں مزید رسدی رکاوٹ، مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شدت اور روسی تیل کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نقصان شامل ہے۔ ایسی صورت میں خوراک کی قیمتیں بنیادی پیش گوئی سے مزید 12 فیصد اوپر جا سکتی ہیں۔ عالمی بینک نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کا جھٹکا کم آمدن والے ممالک میں مہنگائی، غذائی تحفظ اور غربت کے مسائل کو زیادہ سنگین بنا سکتا ہے۔
رپورٹ میں کھاد کی قیمتوں کے لیے 2026 میں 14 فیصد اضافے کا تخمینہ دیا گیا، جسے یوریا کی قیمتوں میں تیزی سے جوڑا گیا ہے۔ دھاتوں کی قیمتیں 25 فیصد بڑھنے کی پیش گوئی ہے، جہاں ایلومینیم، تانبا اور ٹن رسد میں رکاوٹ اور قابل تجدید توانائی، برقی گاڑیوں اور ڈیٹا سینٹرز سے مضبوط طلب کے باعث نئی بلند سطحیں دیکھ سکتے ہیں۔ قیمتی دھاتوں میں مجموعی اضافہ 40 فیصد تک متوقع ہے۔
عالمی بینک کا بنیادی منظرنامہ یہ بھی کہتا ہے کہ 2027 میں مجموعی اجناس کی قیمتیں تقریباً سات فیصد نیچے آ سکتی ہیں، لیکن جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور موسم کے بڑے جھٹکے اس کمی کو محدود کر سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے درآمدی توانائی اور خوراک کی عالمی قیمتوں سے متاثر ہونے والے ممالک کے لیے یہ رجحانات مہنگائی، درآمدی بل اور مالیاتی پالیسی پر بالواسطہ دباؤ پیدا کر سکتے ہیں، تاہم رپورٹ نے پاکستان کے لیے اس خبر میں کوئی مخصوص نیا عددی تخمینہ جاری نہیں کیا۔
