کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک کے بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے لیے کم از کم ادا شدہ سرمائے کی شرائط میں مرحلہ وار اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی بینک کے نئے فریم ورک کے مطابق عمومی بینکوں کو 31 دسمبر 2030 تک اپنا کم از کم ادا شدہ سرمایہ، نقصانات سے پاک بنیاد پر، 20 ارب روپے تک پہنچانا ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد مالیاتی اداروں کی سرمایہ جاتی بنیاد مضبوط کرنا اور ممکنہ مالی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔

نئی شرائط کے تحت سرمایہ ایک ہی مرحلے میں بڑھانے کے بجائے بتدریج مقررہ سطحوں تک لے جایا جائے گا۔ دستیاب شیڈول کے مطابق عمومی بینکوں کے لیے کم از کم سرمایہ پہلے 14 ارب، پھر 16 ارب، 18 ارب اور بالآخر 20 ارب روپے تک بڑھایا جائے گا۔ مختلف اقسام کے مالیاتی اداروں کے لیے ان کے کاروباری ماڈل اور لائسنس کے مطابق الگ سرمایہ جاتی حدود مقرر کی گئی ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ کم از کم ادا شدہ سرمایہ کی شرط رسک ویٹڈ اثاثوں کے مقابلے میں کیپیٹل ایڈیکویسی ریشو سے الگ ضابطہ جاتی تقاضا ہے۔ اس لیے مالیاتی اداروں کو صرف نئی مقررہ رقم پوری کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ انہیں دیگر موجودہ احتیاطی اور سرمایہ جاتی قواعد پر بھی عمل جاری رکھنا ہوگا۔

مرکزی بینک کے مطابق زیادہ مضبوط سرمایہ جاتی بنیاد بینکوں کو کریڈٹ، مارکیٹ اور آپریشنل خطرات سے پیدا ہونے والے ممکنہ نقصانات جذب کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کے ساتھ مالیاتی نظام میں استحکام، صارفین اور ڈپازٹرز کے اعتماد اور بینکوں کی طویل مدتی پائیداری کو بہتر بنانا بھی پالیسی کے مقاصد میں شامل ہے۔

نئے فریم ورک سے نسبتاً کم سرمایہ رکھنے والے بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کو آئندہ برسوں میں اضافی سرمایہ لانے، منافع برقرار رکھنے، حصص یافتگان سے سرمایہ حاصل کرنے یا اپنے کاروباری ڈھانچے میں تبدیلی جیسے اقدامات پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم کسی مخصوص ادارے کے لیے درکار اقدام اس کی موجودہ سرمایہ جاتی پوزیشن اور متعلقہ لائسنس کی شرط پر منحصر ہوگا۔

مرحلہ وار نفاذ کا مقصد مالیاتی اداروں کو نئی سطحوں تک پہنچنے کے لیے مناسب وقت دینا ہے تاکہ اچانک سرمایہ جاتی دباؤ پیدا نہ ہو۔ 2030 کی آخری مدت تک متعلقہ اداروں کو مقررہ کم از کم سرمایہ برقرار رکھنا ہوگا، جبکہ اسٹیٹ بینک اپنی نگرانی کے معمول کے نظام کے ذریعے تعمیل کا جائزہ لیتا رہے گا۔ نئی شرائط کا اصل اثر آنے والے برسوں میں بینکوں کی سرمایہ بڑھانے کی حکمت عملی اور صنعت میں ممکنہ تنظیم نو سے واضح ہوگا۔