لاہور: پاکستان ریلوے نے اپنی آمدن میں مال برداری کا حصہ بڑھانے کے لیے فریٹ آپریشنز کی تنظیم نو، مال گاڑیوں کے بہتر استعمال اور نجی شعبے کے ساتھ تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ حکام کے مطابق مقصد یہ ہے کہ کراچی کی بندرگاہوں سے ملک کے بڑے صنعتی اور تجارتی مراکز تک سامان کی نقل و حمل میں ریل کو سڑک کے مقابلے میں زیادہ قابلِ اعتماد اور مسابقتی متبادل بنایا جائے۔
ریلوے کی فریٹ حکمت عملی میں لوکوموٹیوز اور ویگنوں کی دستیابی، ٹرمینلز پر سامان کی تیز ہینڈلنگ، شیڈول کی پابندی اور تجارتی صارفین کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں جیسے عناصر اہم ہیں۔ مال برداری میں تاخیر یا غیر یقینی کاروباری صارفین کو سڑک کے ذریعے نقل و حمل کی طرف لے جا سکتی ہے، اس لیے آپریشنل کارکردگی بہتر کرنا آمدن بڑھانے کے لیے بنیادی شرط سمجھی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی قیادت میں محکمہ حالیہ مہینوں میں مسافر خدمات کے ساتھ فریٹ کاروبار کی بحالی پر بھی زور دیتا رہا ہے۔ ریلوے حکام کا مؤقف ہے کہ بھاری اور بڑی مقدار میں سامان کی طویل فاصلے تک نقل و حمل ریل کے لیے قدرتی کاروباری موقع ہے، خاص طور پر جب بندرگاہوں، خشک بندرگاہوں اور صنعتی علاقوں کے درمیان باقاعدہ سروس دستیاب ہو۔
نجی شعبے کی شمولیت کو بھی اس حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس میں ٹرمینل آپریشنز، مخصوص فریٹ سروسز، ویگنوں کے استعمال اور لاجسٹکس انتظامات کے مختلف ماڈلز شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم کسی بھی شراکت داری کی حتمی شکل متعلقہ ٹینڈر، معاہدے اور ریگولیٹری شرائط سے طے ہوگی، اس لیے مجوزہ اقدامات کو مکمل شدہ تجارتی معاہدوں کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
فریٹ کاروبار میں اضافے سے پاکستان ریلوے کو مسافر کرایوں پر انحصار کم کرنے اور اپنی مالی پوزیشن بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بڑی مقدار میں سامان سڑک سے ریل پر منتقل ہونے کی صورت میں شاہراہوں پر بھاری ٹرکوں کا دباؤ اور فی یونٹ ایندھن استعمال بھی کم ہو سکتا ہے، اگرچہ ان فوائد کی مقدار اصل فریٹ حجم اور آپریشنل کارکردگی پر منحصر ہوگی۔
ریلوے کو اس منصوبے میں پرانے انفراسٹرکچر، لوکوموٹیوز کی دستیابی، ٹریک کی گنجائش اور ٹرمینل سہولتوں جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ فریٹ اصلاحات کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ محکمہ باقاعدہ مال گاڑیوں کی تعداد، وقت کی پابندی، تجارتی صارفین اور فریٹ آمدن میں مستقل اضافہ کر پاتا ہے یا نہیں۔

