اسلام آباد: وزیراعظم کی اپنا گھر ہاؤسنگ اسکیم کے تحت بینکوں اور متعلقہ اداروں نے 86,896 درخواستوں کے لیے مجموعی طور پر 511 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی ہے، تاہم اب تک 15,584 قرضوں کی مد میں صرف 91 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ یہ اعداد وزارت خزانہ کی جانب سے رسائی بہ مالیات اسٹیئرنگ کمیٹی کے چھٹے اجلاس کے بعد جاری کیے گئے۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے اجلاس میں ہاؤسنگ فنانس میں پیش رفت کو سراہا، لیکن منظور شدہ اور حقیقتاً جاری ہونے والی رقوم کے درمیان بڑے فرق کے باعث ادائیگیوں کی رفتار بڑھانے پر زور دیا۔ کمیٹی نے گھروں کی رسد سے متعلق رکاوٹوں، بلڈرز کی فنانسنگ اور زیر تعمیر منصوبوں کو قرض فراہم کرنے کے ممکنہ طریقوں پر بھی غور کیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق مجموعی ہاؤسنگ فنانس 455 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اور اس سے 241,500 قرض لینے والے منسلک ہیں۔ اپنا گھر اسکیم کے اعداد اس وسیع تر ہاؤسنگ فنانس مارکیٹ کا حصہ ہیں۔ قرض کی منظوری اور رقم کے اجرا میں فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ منظوری کے بعد دستاویزات، تعمیر، جائیداد کی دستیابی یا دیگر عملی مراحل ادائیگی کی رفتار پر اثر ڈال سکتے ہیں؛ کمیٹی نے انہی رکاوٹوں کو کم کرنے پر بات کی۔

اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور زرعی قرضوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ 23 اکتوبر 2026 تک ایس ایم ایز کو واجب الادا فنانسنگ 1.148 کھرب روپے تھی، جس میں 538 ارب روپے چھوٹے کاروباروں کے لیے تھے۔ وزیر خزانہ نے مالیاتی اداروں اور عملدرآمد کرنے والے اداروں سے کہا کہ ایس ایم ای فنانسنگ میں زیادہ تیزی دکھائی جائے تاکہ قرض تک رسائی حقیقی کاروباری سرگرمی میں تبدیل ہو سکے۔

زرعی فنانسنگ 3.5 ملین کے قریب قرض لینے والوں کے لیے 1.329 کھرب روپے تک پہنچنے کی اطلاع دی گئی۔ زرخیز آسان زرعی قرضہ اسکیم کے تحت 20,176 درخواستوں کے لیے 8.674 ارب روپے منظور ہوئے، جبکہ چھوٹے کسانوں کو 6,132 بغیر ضمانت قرضوں کی صورت میں 2.34 ارب روپے جاری کیے گئے۔ کمیٹی نے لائیوسٹاک، ڈیری اور زرعی ویلیو چین میں نجی شعبے کی شرکت بڑھانے کے اقدامات بھی دیکھے۔

پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن اسکیم کے تحت 21,918 درخواستوں کے لیے 3.06 ارب روپے کی منظوری، 5,506 قرضوں میں 1.093 ارب روپے کی ادائیگی اور 3,263 برقی گاڑیوں کی فراہمی کی اطلاع بھی دی گئی۔ اجلاس میں ڈیجیٹل کریڈٹ اسکورنگ اور برآمد کنندگان کی فنانسنگ کے پائلٹ منصوبوں پر گفتگو ہوئی، جہاں وزیر خزانہ نے ڈیٹا کے محفوظ، رضامندی پر مبنی تبادلے اور رازداری کے تحفظ کو ضروری قرار دیا۔