کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فہرست شدہ کمپنیوں کی جانب سے مالی سال 2026 کے دوران ادا کیا گیا انکم ٹیکس ایک ٹریلین روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ کیپٹل مارکیٹ سے متعلق سامنے آنے والے اعداد کے مطابق لسٹڈ کارپوریٹ شعبہ وفاقی محصولات میں ایک اہم حصہ فراہم کر رہا ہے، جبکہ مارکیٹ کے نمائندوں نے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور دستاویزی معیشت کی حوصلہ افزائی کے لیے مزید پالیسی اقدامات پر زور دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی فہرست میں شامل کمپنیوں نے مجموعی طور پر ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ انکم ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرایا۔ یہ رقم صرف انکم ٹیکس سے متعلق ہے اور اس میں سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر حکومتی محصولات شامل کیے جائیں تو لسٹڈ کمپنیوں کی مجموعی مالی شراکت اس سے کہیں زیادہ بنتی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ فہرست شدہ کمپنیاں مالی رپورٹنگ، آڈٹ، کارپوریٹ گورننس اور ریگولیٹری نگرانی کے تقاضوں کے تحت کام کرتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی آمدن اور ٹیکس ادائیگی نسبتاً زیادہ دستاویزی ہوتی ہے۔ اسی بنیاد پر مارکیٹ کے نمائندے حکومت سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ غیر دستاویزی کاروباری سرگرمیوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے تاکہ پہلے سے رجسٹرڈ اور ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں پر اضافی بوجھ کم ہو۔

پاکستان کی وفاقی حکومت کو مالیاتی خسارے، قرضوں کی ادائیگی اور ترقیاتی اخراجات کے لیے محصولات بڑھانے کی مسلسل ضرورت ہے۔ ایسے ماحول میں کارپوریٹ ٹیکس وصولیاں بجٹ کے اہم ذرائع میں شامل ہیں۔ تاہم صرف فہرست شدہ کمپنیوں سے زیادہ محصولات حاصل کرنا وسیع ٹیکس اصلاحات کا متبادل نہیں؛ پالیسی سازوں کے لیے ٹیکس بیس بڑھانا، نفاذ بہتر کرنا اور مختلف شعبوں کے درمیان ٹیکس بوجھ کو متوازن کرنا بھی اہم ہے۔

کیپٹل مارکیٹ کے لیے ٹیکس پالیسی سرمایہ کاری کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ حصص کی خرید و فروخت، منافع، کیپیٹل گین اور کمپنیوں کے منافع پر مختلف ٹیکسوں کی شرح سرمایہ کاروں اور کمپنیوں دونوں کی حکمت عملی میں شامل رہتی ہے۔ اسی لیے پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور مارکیٹ کے دیگر نمائندے بجٹ سازی کے دوران ٹیکس نظام میں پیش گوئی کی صلاحیت اور پالیسی تسلسل کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ایک ٹریلین روپے سے زیادہ کی رپورٹ شدہ انکم ٹیکس ادائیگی کو لسٹڈ کارپوریٹ سیکٹر کی مالی شراکت کے پیمانے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، تاہم اسے پاکستان کے تمام کاروباری شعبے کی مجموعی ٹیکس کارکردگی کے مساوی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ مختلف شعبوں، نجی غیر فہرست شدہ کمپنیوں، افراد اور بالواسطہ ٹیکسوں کے اعداد الگ ہوتے ہیں اور قومی محصولات کا مکمل جائزہ ان سب کو یکجا کرکے ہی ممکن ہے۔