مسلسل اپ ڈیٹس

پاکستان‑قطر: طویل مدتی ایل این جی معاہدوں کے نظرثانی مذاکرات

پاکستان اور قطر کے درمیان دونوں طویل مدتی ایل این جی سیل‑اینڈ‑پرچیز معاہدوں کی قیمتوں اور کارگو حجم پر نظرثانی کی بات چیت اکتوبر 2026 میں تیز ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق (پی ایس او ذرائع)، قطر انرجی نے برینٹ خام تیل کی قیمت کے 11.96 فیصد کے حساب سے ایک حتمی شرح پیش کی ہے اور 2027‑2031 کے لیے سالانہ 66 کارگوز کی فراہمی کی تجویز رکھی ہے (موجودہ انتظام کے تحت سالانہ 108 کارگوز طے تھے)۔ معاہدوں میں 2016–2031 اور 2021–2031 کی مدتیں شامل ہیں؛ پاکستانی جانب سے پہلے معاہدے کی شرح 13.37 فیصد سے کم کر کے 10.20 فیصد کرنے کی درخواست کی گئی تھی جو قبول نہ ہوئی۔ ایک اور تجویز 210 کارگوز کو 2031 کے بعد چار سال کے لیے مؤخر کرنے کی تھی۔ دونوں معاہدے حکومت‑سے‑حکومت کی بنیاد پر PSI/قطر انرجی اور پی ایس او کے درمیان طے ہوئے اور ٹیک‑اینڈ‑پے نوعیت کی شقیں رکھتی ہیں۔ پی ایس او نے رپورٹ کے مطابق حکومت سے منظوری مانگی ہے تاکہ فیصلہ (رپورٹ کے حوالے سے) 3 نومبر تک حتمی کیا جا سکے۔ اس مرحلے پر پیشکشیں حتمی معاہدہ نہیں سمجھی جاتیں اور منظوری درکار ہے۔ مذاکرات کا نتیجہ پاکستان کی درآمدی توانائی لاگت، گیس سسٹم میں اضافی سپلائی کے انتظام اور سرکاری اداروں کی مالی ذمہ داریوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے