مسلسل اپ ڈیٹس

وفاقی آئینی عدالت نے نادیہ سرور کے 2012 کے ورک پلیس ہراسمنٹ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا

وفاقی آئینی عدالت نے 2012 میں نیشنل بینک کی ملازمہ نادیہ سرور کی ہراسمنٹ شکایت سے متعلق فیصلہ دیا ہے کہ پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ دی ورک پلیس ایکٹ 2010 کے تحت قابلِ کارروائی ہراسمنٹ کے لیے متعلقہ طرزِ عمل کا جنسی نوعیت کا ہونا ضروری ہے۔ عدالت نے اس بنیاد پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا پہلے کا حکم کالعدم قرار دیا۔ پہلی سطح پر وفاقی محتسب نے دونوں ملزمان کے خلاف لازمی ریٹائرمنٹ کی سزا سنائی تھی؛ صدرِ مملکت نے بعد ازاں وہ سزا واپس کر کے سرزنش برقرار رکھی تھی، اور ہائیکورٹ نے صدر کا حکم کالعدم قرار دے کر محتسب کا فیصلہ بحال کیا تھا۔ کئی وکلا اور قانونی ماہرین نے عدالتی تشریح پر تنقید کی ہے جبکہ 2022 میں پارلیمنٹ کی جانب سے قانون میں ہونے والی ترمیم کے اطلاق کے بارے میں الگ قانونی بحث جاری ہے۔

1 خبریںآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے