اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے کام کی جگہ پر ہراسمنٹ سے متعلق ایک پرانے مقدمے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ دی ورک پلیس ایکٹ 2010 کے تحت قابلِ کارروائی ہراسمنٹ کے لیے متعلقہ فعل، رویہ یا طرزِ عمل کا جنسی نوعیت کا ہونا ضروری ہے۔ یہ مقدمہ نیشنل بینک آف پاکستان کی ملازمہ نادیہ سرور کی شکایت سے متعلق ہے، جنہوں نے 2012 میں اپنے دو ساتھیوں عقیل عباس اور عثمان شاہد پر اختیارات کے مبینہ غلط استعمال اور ایسا ماحول پیدا کرنے کا الزام لگایا تھا جسے انہوں نے اپنے لیے توہین آمیز اور غیر محفوظ قرار دیا۔
عدالت کے تین رکنی بینچ کا فیصلہ جسٹس علی باقر نجفی نے تحریر کیا۔ فیصلے میں 2010 کے قانون میں موجود ہراسمنٹ کی تعریف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ عام معنوں میں نامناسب رویے کو ہراسمنٹ کہا جا سکتا ہے، لیکن اس مخصوص قانون کے تحت کارروائی کے لیے اس کا جنسی نوعیت سے تعلق ثابت ہونا چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وفاقی محتسب کا دائرہ اختیار اسی قانونی تعریف تک محدود ہے اور وہ ہر قسم کے انتظامی یا تادیبی تنازعے کو اس قانون کے تحت نہیں سن سکتا۔
اس کیس میں وفاقی محتسب نے پہلے دونوں ملازمین کے خلاف لازمی ریٹائرمنٹ کی سزا سنائی تھی۔ بعد میں صدرِ مملکت کے سامنے نمائندگی پر اس سزا کو ختم کر کے سرزنش کی سزا برقرار رکھی گئی۔ نادیہ سرور نے اس حکم کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا، جہاں ہائیکورٹ نے صدر کا حکم کالعدم قرار دے کر محتسب کا فیصلہ بحال کر دیا تھا۔ اب وفاقی آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کا فیصلہ ختم کر دیا ہے۔
فیصلے کے بعد متعدد وکلا اور قانونی مبصرین نے عدالتی تشریح پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پارلیمان نے 2022 میں قانون میں ترمیم کر کے جنس کی بنیاد پر ایسے امتیازی رویے کو بھی تعریف میں شامل کیا تھا جو لازماً جنسی نوعیت کا نہ ہو۔ تاہم زیرِ بحث اصل شکایت 2012 کی ہے، اس لیے 2022 کی ترمیم کے اطلاق اور اس کے دائرے سے متعلق قانونی بحث الگ حیثیت رکھتی ہے۔
قانونی ماہرین کی تنقید اپنی جگہ، عدالت کا تحریری فیصلہ اس مقدمے میں نافذ عدالتی حکم ہے۔ رپورٹ میں وکلا کی آرا کو فیصلے سے الگ رکھتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ تنقیدی بیانات قانونی ماہرین کے مؤقف ہیں، عدالت کی جانب سے ان کی توثیق نہیں۔
