اسٹاک ہوم: پاکستانی انسانی حقوق کی وکیل جلیلہ حیدر کو 2026 کے رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جسے عام طور پر ’متبادل نوبیل انعام‘ بھی کہا جاتا ہے۔ سویڈن میں قائم رائٹ لائیولی ہڈ فاؤنڈیشن نے 30 ستمبر کو رواں سال کے انعام یافتگان کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جلیلہ حیدر کو پاکستان میں کمزور اور متاثرہ برادریوں کے قانونی دفاع، انسانی حقوق کی وکالت اور سماجی رکاوٹیں توڑنے کے لیے ان کی کوششوں کے اعتراف میں اعزاز دیا گیا ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق جلیلہ حیدر پاکستان کی ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون وکیل ہیں۔ ادارے نے اپنے اعزازی بیان میں ان کے قانونی امداد کے کام، انسانی حقوق کی مہمات اور اقلیتی برادریوں کے لیے سرگرمیوں کو نمایاں کیا۔ جلیلہ حیدر نے بلوچستان میں مختلف کمزور گروہوں کے لیے قانونی معاونت فراہم کی ہے اور ان کا کام بالخصوص ہزارہ برادری، پناہ گزینوں اور دیگر حاشیے پر موجود طبقات کے مسائل سے منسلک رہا ہے۔

رائٹ لائیولی ہڈ فاؤنڈیشن نے 2026 میں مجموعی طور پر چار انعام یافتگان کا اعلان کیا۔ جلیلہ حیدر کے ساتھ امریکی مصنوعی ذہانت کی محقق ٹم نٹ گیبرو، جنوبی افریقہ کے خطے میں سرگرم رورل ویمنز اسمبلی اور جارجین ینگ لائرز ایسوسی ایشن کو بھی اعزاز کے لیے منتخب کیا گیا۔ فاؤنڈیشن کے مطابق ان تمام شخصیات اور تنظیموں کا مشترک پہلو ایسے طاقتور ڈھانچوں کو چیلنج کرنا ہے جو انسانی حقوق، مساوات یا عوامی مفاد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ادارے نے جلیلہ حیدر کی 2018 کی اس سات روزہ بھوک ہڑتال کا بھی حوالہ دیا جو ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف کی گئی تھی۔ فاؤنڈیشن کے مطابق اس احتجاج کے بعد اعلیٰ عسکری قیادت اور ہزارہ خواتین کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوئے اور بعد میں برادری کے خلاف حملوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ تشریح رائٹ لائیولی ہڈ فاؤنڈیشن کی جانب سے جلیلہ حیدر کے کام کے پس منظر میں پیش کی گئی ہے۔

رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ 1980 میں قائم کیا گیا تھا اور یہ دنیا کے مختلف حصوں میں انسانی حقوق، ماحولیات، امن اور سماجی انصاف کے لیے کام کرنے والے افراد اور اداروں کو دیا جاتا ہے۔ فاؤنڈیشن کے مطابق 2026 کے ایوارڈ کے لیے 72 ممالک سے 200 نامزدگیاں زیرِ غور آئیں۔ رواں سال کے انعام یافتگان کی باقاعدہ تقریب یکم دسمبر کو اسٹاک ہوم میں منعقد ہونا طے ہے۔

جلیلہ حیدر کے انتخاب کی تصدیق فاؤنڈیشن کے سرکاری اعلان اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس سے ہوتی ہے۔ ایوارڈ کا تعلق ان کے انسانی حقوق کے کام کے اعتراف سے ہے اور اسے کسی عدالتی فیصلے، حکومتی عہدے یا سرکاری پالیسی کی منظوری کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔