اسلام آباد: وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال کے تناظر میں ایمرجنسی کے نفاذ کے امکان پر غور کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ممکنہ اقدام زیرِ بحث ہے۔ ان کے بیان کے وقت تک وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ حکم یا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا تھا۔
طارق فضل چوہدری نے صوبے میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات اور صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متعلق وفاقی حکومت کے تحفظات کا حوالہ دیا۔ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی یا ناکامی سے متعلق ان کے تبصرے وفاقی وزیر کا سیاسی اور انتظامی مؤقف ہیں، کوئی عدالتی یا آزاد تحقیقاتی نتیجہ نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وفاقی حکومت کسی ایسے اقدام کی طرف بڑھی تو پاکستان پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لیا جا سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں وفاقی مداخلت، گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکانات پر حالیہ دنوں میں مختلف وفاقی وزرا کے بیانات سامنے آئے ہیں۔ 21 ستمبر کو وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ حکومت قانونی آپشنز کے بارے میں وزارت قانون سے مشاورت کر رہی ہے، جبکہ بعد میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے گورنر راج لگانے کے کسی فوری منصوبے کی تردید کی تھی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے الگ بیان میں کہا تھا کہ اگر آئینی شرائط پوری ہوں تو متعلقہ آئینی طریقہ کار استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دوسری طرف خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی مداخلت کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے سخت سیاسی ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ ان کے بیانات بھی سیاسی مؤقف ہیں اور انہیں کسی حتمی آئینی نتیجے کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ وفاق اور صوبے کے درمیان کشیدگی پاکستان تحریک انصاف کے اعلان کردہ اسلام آباد مارچ کے پس منظر میں بڑھی، جسے 27 ستمبر سے مؤخر کر کے 4 اکتوبر کر دیا گیا تھا۔
آئین میں وفاقی اور صوبائی سطح کے غیر معمولی حالات کے لیے مختلف طریقہ کار موجود ہیں، لیکن کسی بھی اقدام کی قانونی بنیاد، ضروری شرائط اور عملی طریقہ کار متعلقہ آئینی دفعات اور سرکاری کارروائی سے طے ہوگا۔ اس لیے وزیر کے بیان کو موجودہ مرحلے پر ایک زیرِ غور امکان سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ نافذ شدہ ایمرجنسی۔
صورتحال سیاسی طور پر متنازع ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کی کارکردگی اور ارادوں پر مختلف مؤقف رکھتی ہیں۔ خبر میں ان بیانات کو متعلقہ فریقوں سے منسوب کیا گیا ہے اور کوئی آزاد نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا کہ ایمرجنسی ضروری ہے یا نہیں۔
