تاشقند: پاکستان سمیت پانچ ممالک کے اسپیشل فورسز دستوں نے ازبکستان میں منعقد ہونے والی کثیرملکی فوجی مشق ’ایٹرنل برادرہڈ 5‘ میں حصہ لیا۔ پاکستانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق یہ مشق 13 سے 25 ستمبر 2026 تک جاری رہی اور اس میں شریک خصوصی دستوں نے جدید آپریشنز، جنگی حکمتِ عملی اور مختلف سکیورٹی حالات سے نمٹنے سے متعلق تربیتی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان، ترکیہ، آذربائیجان اور ازبکستان کے دستوں سمیت مجموعی طور پر پانچ ممالک کی فورسز نے مشق میں شرکت کی، جبکہ قازقستان نے مبصر ملک کی حیثیت سے حصہ لیا۔ مشق کا بنیادی مقصد اسپیشل فورسز کے درمیان عملی رابطہ، پیشہ ورانہ ہم آہنگی، مشترکہ کارروائیوں کی صلاحیت اور تجربات کے تبادلے کو بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔
شرکا نے ایسے تربیتی مراحل کیے جن میں جدید جنگی حالات، انسدادِ دہشت گردی کے طریقہ کار، خصوصی آپریشنز اور مشترکہ کمانڈ و رابطے جیسے موضوعات شامل تھے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق مختلف ممالک کے اہلکاروں نے اپنے تربیتی تجربات اور عملی طریقہ کار کا تبادلہ بھی کیا تاکہ مشترکہ مشقوں کے دوران رابطہ بہتر بنایا جا سکے۔
ایٹرنل برادرہڈ 5 ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے جب پاکستان متعدد ممالک کے ساتھ دوطرفہ اور کثیرملکی فوجی تربیتی سرگرمیوں میں حصہ لے رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے پاکستان آرمی نے روسی اور عمانی افواج کے ساتھ بھی الگ الگ مشترکہ مشقیں شروع کی تھیں۔ روس کے ساتھ ’دروژبا 9‘ اور عمان کے ساتھ ’وشق الجبل 2‘ نامی مشقوں کا مقصد انسدادِ دہشت گردی، مشترکہ آپریشنل طریقہ کار اور باہمی تربیتی تجربات میں اضافہ بتایا گیا تھا۔
مشترکہ فوجی مشقیں عموماً شریک ممالک کی افواج کو ایک دوسرے کے طریقہ کار، کمانڈ ڈھانچوں اور تکنیکی صلاحیتوں کو سمجھنے کا موقع دیتی ہیں۔ تاہم ایسی مشق میں شرکت کسی نئے دفاعی معاہدے یا مستقل فوجی اتحاد کے قیام کے مترادف نہیں ہوتی، جب تک متعلقہ حکومتیں اس بارے میں الگ اور باضابطہ اعلان نہ کریں۔
ازبکستان میں ہونے والی اس مشق سے متعلق دستیاب سرکاری بیان نے اسے دفاعی تعاون، پیشہ ورانہ رابطے اور خصوصی دستوں کی مہارت بڑھانے کی سرگرمی قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کسی جنگی تعیناتی یا حقیقی آپریشن کی نشاندہی نہیں کی گئی بلکہ تمام سرگرمیاں تربیتی مشق کے دائرے میں بیان کی گئی ہیں۔

