مکمل کوریج

وفاقی آئینی عدالت: پاکپتن کی سرکاری زمین اور عارضی کاشت لیز پر ملکیتی حقوق کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے پاکپتن کے چک نمبر 2/کے بی کی تقریباً 49 ایکڑ زرعی سرکاری زمین کے سلسلے میں فیصلہ دیتے ہوئے لیز ہولڈرز کے مستقل ملکیتی حقوق کا دعویٰ مسترد کر دیا۔ دو رکنی بینچ (چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی) نے قرار دیا کہ عارضی کاشت کی لیز صرف قبضے اور کاشت کی اجازت دیتی ہے اور اس سے ریاستی ملکیت ختم یا مستقل ملکیتی حق پیدا نہیں ہوتا۔ عدالت نے کہا کہ طویل قبضہ، لیز میں توسیع یا سرکاری واجبات کی ادائیگی بذاتِ خود ممنوعہ سرکاری زمین کو نجی ملکیت میں منتقل نہیں کر سکتی۔ مقدمے کا پس منظر یہ تھا کہ زمین 1968–1978 کے دوران عارضی لیز پر دی گئی، 1979 کے نوٹیفکیشن کے تحت ملکیتی حقوق کا مطالبہ کیا گیا، 2001 میں پہلی بار ممنوعہ زون قرار دے کر دعویٰ مسترد ہوا، بعد ازاں مختلف انتظامی فیصلے اور اپیلیں آئیں (2008 میں ای ڈی او ریونیو نے چالان کا حکم دیا، 2011 میں دوبارہ دعویٰ مسترد ہوا) اور لاہور ہائی کورٹ نے ایک مرحلے پر متصادم فیصلہ کیا تھا۔ عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کا سابقہ فیصلہ کالعدم کر دیا اور یہ بھی واضح کیا کہ جانشین ریونیو افسر اپنے پیش رو کے حکم کا جائزہ لے سکتا ہے بشرطیکہ متعلقہ قانونی شرائط اور پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت پیشگی منظوری موجود ہو۔ عدالت نے فیصلہ مخصوص زمین اور اس پر لاگو پالیسی اور قانونی ممانعت کے تناظر میں جاری کیا مگر عموماً سرکاری املاک کے تحفظ اور عارضی لیز بمقابلہ مستقل ملکیت کے قانونی فرق کے اصول واضح کیے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے