اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے محفوظ زرعی سرکاری زمین کے لیز ہولڈرز کی جانب سے ملکیتی حقوق کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عوامی عہدیداروں کے پاس کمیونٹی کی امانت کے طور پر موجود ریاستی املاک کو قانون کے سوا کسی دوسرے طریقے سے نجی ملکیت میں منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل تھے، نے پنجاب بورڈ آف ریونیو کے ممبر کالونیز کی اپیل پر فیصلہ دیا۔

مقدمہ پاکپتن کے چک نمبر 2/کے بی میں 49 ایکڑ، پانچ کنال اور 13 مرلے زرعی زمین سے متعلق تھا۔ یہ زمین عارضی کاشت لیز اسکیم کے تحت خریف 1968 سے ربیع 1978 تک ایک خاتون کو دی گئی تھی اور بعد میں لیز کی مدت میں وقتاً فوقتاً توسیع ہوتی رہی۔ بعد ازاں لیز ہولڈرز نے 3 ستمبر 1979 کے سرکاری نوٹیفکیشن کے تحت مستقل ملکیتی حقوق کا مطالبہ کیا۔

یہ درخواست مئی 2001 میں اس بنیاد پر مسترد کر دی گئی کہ متعلقہ زمین ممنوعہ زون میں واقع تھی۔ مختلف اپیلوں اور دوبارہ سماعتوں کے بعد 2008 میں پاکپتن کے ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ افسر ریونیو نے دعویٰ قبول کرتے ہوئے زمین کی قیمت جمع کرانے کے لیے چالان جاری کرنے کا حکم دیا۔ بعد میں بورڈ آف ریونیو کے ممبر کالونیز کی اجازت سے اس حکم کا جائزہ لیا گیا اور اگست 2011 میں ملکیتی دعویٰ دوبارہ مسترد ہو گیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے بعد ازاں اس فیصلے کو کالعدم کیا، جس کے خلاف معاملہ وفاقی آئینی عدالت پہنچا۔

عدالت نے بنیادی طور پر یہ طے کرنا تھا کہ آیا 1979 کی پالیسی کے تحت اس زمین پر ملکیتی حقوق دیے جا سکتے تھے اور کیا بعد کے ریونیو افسر کو اپنے پیش رو کے حکم کا جائزہ لینے کا اختیار تھا۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے فیصلے میں کہا کہ اگر سرکاری ریکارڈ کسی ایسی قانونی ممانعت کو ظاہر کرتا ہو جو زمین منتقل کرنے والے اختیار ہی کو محدود کرتی ہے تو عدالت اسے نظر انداز نہیں کر سکتی۔

فیصلے کے مطابق عارضی کاشت کی لیز صرف زمین پر قبضے اور کاشت کی اجازت دیتی ہے اور اس سے ریاستی ملکیت ختم نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس مستقل ملکیتی حق سرکاری املاک کی مستقل منتقلی کا باعث بنتا ہے، اس لیے دونوں قانونی حیثیتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ طویل قبضہ، لیز میں توسیع یا سرکاری واجبات کی ادائیگی بذات خود ممنوعہ سرکاری زمین پر مستقل ملکیتی حق پیدا نہیں کرتی۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ قانونی شرائط اور پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی متعلقہ دفعہ کے تحت پیشگی منظوری کے ساتھ جانشین ریونیو افسر اپنے پیش رو کے حکم کا جائزہ لے سکتا تھا۔ وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا سابق فیصلہ کالعدم کر دیا۔ یہ فیصلہ مخصوص زمین اور اس پر لاگو پالیسی و قانونی ممانعت کے تناظر میں آیا ہے، تاہم اس میں سرکاری املاک کے تحفظ اور عارضی لیز و مستقل ملکیت کے قانونی فرق سے متعلق اصول بھی واضح کیے گئے ہیں۔