کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کے فیصلے کے بعد ضلع پشین میں اجتماعات پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے پشین اور دیگر علاقوں کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 نافذ کرنے کا حکم دیا۔
اجلاس میں پشین کے قبائلی عمائدین اور مذہبی علما کے علاوہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اصغر ترین، اراکین اسمبلی سید ظفر آغا اور اسفندیار کاکڑ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات، ڈویژنل کمشنر، ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس، ڈسٹرکٹ پولیس افسر اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
دفعہ 144 کے نفاذ کا فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صوبے کے مختلف علاقوں میں تشدد اور اغوا کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ جھل مگسی میں دو مزید مغوی افراد کی لاشیں غتھرا کے علاقے میں سڑک کنارے ملیں، جس کے بعد متعلقہ واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد چار ہو گئی۔ پولیس نے مرنے والوں کی شناخت مولوی صادق ابڑو اور لیاقت علی ابڑو کے نام سے کی ہے۔
پولیس کے مطابق پانچ افراد کو 17 اکتوبر کو مسلح افراد نے اس وقت اغوا کیا تھا جب وہ گنداواہ سے کھاری کی طرف سفر کر رہے تھے اور واقعہ کوٹڑہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آیا۔ دو لاشیں ملنے کے بعد پولیس اور مقامی افراد موقع پر پہنچے، لاشیں گنداواہ کے ضلعی اسپتال منتقل کی گئیں اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اہل خانہ کے حوالے کر دی گئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
ایک الگ واقعے میں ضلع کچھی کے سنی علاقے میں غازی خان نامی نوجوان کو مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق مقتول ڈیرہ مراد جمالی کا رہائشی تھا۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے، جبکہ پولیس نے لاش اسپتال منتقل کر کے قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کی۔ اس قتل کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔
پشین میں اجتماعات پر پابندی ایک انتظامی و سکیورٹی اقدام ہے اور اس کا دائرہ صوبائی حکام کے جاری کردہ دفعہ 144 کے حکم کے مطابق ہوگا۔ جھل مگسی اور کچھی کے واقعات میں پولیس نے تحقیقات جاری ہونے کی تصدیق کی ہے؛ کسی ملزم کے خلاف حتمی عدالتی نتیجہ سامنے نہیں آیا، اس لیے ذمہ داری سے متعلق کسی غیر ثابت شدہ دعوے کو حتمی حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔
