اسلام آباد: قومی اسمبلی نے 26 اکتوبر کے اجلاس میں سات بل منظور کیے، تاہم ایوان میں کم حاضری اور وزرا کی عدم موجودگی کے باعث کارروائی بار بار متاثر ہوئی۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے کورم کی نشاندہی کے بعد اجلاس معطل کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق مجوزہ قرارداد پر کارروائی بھی مؤخر ہو گئی۔
اجلاس میں قانون سازی کا عمل ایسے وقت آگے بڑھایا گیا جب حکومتی اور اپوزیشن بینچوں پر ارکان کی تعداد محدود تھی۔ پارلیمانی قواعد کے تحت قومی اسمبلی کی کارروائی جاری رکھنے کے لیے مقررہ کم از کم تعداد میں ارکان کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔ کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کے بعد اسپیکر یا اجلاس کی صدارت کرنے والے رکن کو کارروائی روکنے یا ملتوی کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سات بل منظوری کے مراحل سے گزرے، جس سے یہ اجلاس قانون سازی کے اعتبار سے اہم رہا، لیکن کم حاضری نے پارلیمانی نگرانی اور بحث کے معیار سے متعلق سوالات بھی پیدا کیے۔ کسی بل کی منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہر صورت فوری طور پر نافذ قانون بن جاتا ہے؛ آئینی اور قانونی نوعیت کے مطابق مزید پارلیمانی یا صدارتی مراحل درکار ہو سکتے ہیں۔
اسی اجلاس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارتی اقدامات کے خلاف ایک قرارداد پیش کیے جانے کا معاملہ بھی ایجنڈے میں تھا، مگر کورم کے مسئلے کے باعث اس پر کارروائی مکمل نہ ہو سکی۔ پاکستان میں 27 اکتوبر کو کشمیر بلیک ڈے کے طور پر سرکاری سطح پر منایا جا رہا ہے، اس لیے قرارداد کا وقت سیاسی طور پر بھی نمایاں تھا۔
پارلیمانی کارروائی میں کورم کا مسئلہ حالیہ اجلاسوں میں توجہ کا مرکز رہا ہے۔ کم حاضری کی صورت میں قانون سازی کے ساتھ سوالات، قراردادوں اور دیگر نگرانی کے امور بھی متاثر ہوتے ہیں۔ پیر کے اجلاس میں سات بلوں کی منظوری اور اس کے بعد کارروائی کا رک جانا اسی تضاد کو نمایاں کرتا ہے کہ ایوان نے اہم قانون سازی تو کی، لیکن باقی ایجنڈا مکمل کرنے کے لیے مطلوبہ حاضری برقرار نہ رہ سکی۔
اس خبر میں منظور شدہ بلوں کی قانونی حیثیت کو ان کے پارلیمانی مرحلے تک محدود رکھا گیا ہے؛ کسی اقدام کو حتمی قانون یا نافذ شدہ ضابطہ اسی وقت سمجھا جائے گا جب متعلقہ آئینی مراحل مکمل ہونے کی باضابطہ تصدیق سامنے آئے۔

