اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی صحت احسن چیمہ نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کو ادویات کی قیمتوں کے موجودہ طریقہ کار کا جامع جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے تاکہ مریضوں پر غیر ضروری مالی بوجھ کم کیا جا سکے اور مارکیٹ میں ضروری دواؤں کی دستیابی برقرار رہے۔ 27 اکتوبر کی معتبر رپورٹنگ کے مطابق یہ ہدایات ڈریپ کی کارکردگی اور ادویات کی قیمتوں سے متعلق اجلاس کے دوران دی گئیں۔

وزیر صحت نے حکام سے کہا کہ قیمتوں کے تعین کا ایسا نظام وضع کیا جائے جو صارفین کے مفاد اور ادویہ ساز صنعت کی قابل عمل پیداواری ضروریات دونوں کو مدنظر رکھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلاجواز قیمت بڑھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں ریگولیٹری کارروائی کی جائے۔ اجلاس میں قیمتوں سے متعلق زیر التوا درخواستوں اور کیسز کو بھی قواعد کے مطابق جلد نمٹانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

پاکستان میں ادویات کی قیمتوں کا معاملہ کئی برس سے مریضوں، صنعت اور ریگولیٹر کے درمیان اہم پالیسی موضوع رہا ہے۔ درآمدی خام مال، روپے کی قدر، توانائی اور پیداواری اخراجات میں تبدیلیاں کمپنیوں کی لاگت پر اثر ڈالتی ہیں، جبکہ اچانک یا بڑے اضافے مریضوں، بالخصوص طویل بیماریوں کے علاج پر انحصار کرنے والے افراد کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے حکومت کے سامنے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ ضروری ادویات مارکیٹ سے غائب نہ ہوں اور ساتھ ہی قیمتوں میں غیر منصفانہ اضافہ بھی روکا جا سکے۔

اجلاس میں موسمی بیماریوں اور ویکسین کی دستیابی سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ وزیر صحت نے متعلقہ حکام کو انفلوئنزا ویکسین سمیت ضروری طبی مصنوعات کی فراہمی کی نگرانی مضبوط بنانے اور کسی ممکنہ قلت کی صورت میں بروقت انتظامی اقدامات کی ہدایت کی۔ اس کے ساتھ ڈریپ کے ریگولیٹری عمل میں شفافیت، درخواستوں کے فیصلوں میں تاخیر کم کرنے اور مارکیٹ نگرانی بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

حکومت کی موجودہ ہدایت فوری طور پر کسی مخصوص دوا کی نئی قیمت مقرر کرنے کا اعلان نہیں ہے بلکہ قیمت سازی کے موجودہ طریقہ کار کے جائزے کا آغاز ہے۔ کسی نئے فارمولے، قیمت کی حد یا مخصوص دواؤں کے نرخ میں تبدیلی کا حتمی فیصلہ متعلقہ قواعد، ڈریپ کی سفارشات اور سرکاری منظوری کے بعد ہی تصور کیا جائے گا۔ اس لیے مریضوں اور صنعت کے لیے فی الحال نافذ نرخ اور ضوابط برقرار رہیں گے جب تک حکومت باضابطہ طور پر کوئی نئی پالیسی یا نوٹیفکیشن جاری نہیں کرتی۔