کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی نے سرداری نظام کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کو بحث کے بعد مؤخر کر دیا ہے۔ ایوان میں معاملہ اٹھنے پر اسپیکر نے نشاندہی کی کہ سرداری نظام کے خاتمے سے متعلق قانون سازی 1976 میں ہو چکی ہے اور اس قانون کا اطلاق پورے ملک پر بتایا گیا، جس کے بعد قرارداد کو فوری طور پر منظور کرنے کے بجائے قانونی اور عملی پہلو مزید دیکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق قرارداد نے ایوان میں سیاسی بحث کو جنم دیا اور جماعت اسلامی کے رکن صوبائی اسمبلی اور قائد حزب اختلاف کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ قرارداد کے حامیوں نے قبائلی اور سرداری ڈھانچے کے سماجی و سیاسی اثرات پر سوال اٹھایا، جبکہ بحث میں یہ نکتہ سامنے آیا کہ پہلے سے موجود قانون کی موجودگی میں نئی قرارداد کی قانونی ضرورت اور دائرہ کار واضح ہونا چاہیے۔

بلوچستان میں قبائلی نظام، سرداری اثرورسوخ اور ریاستی و جمہوری اداروں کے تعلق پر طویل عرصے سے سیاسی بحث جاری ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اور سماجی حلقے اس نظام کے کردار کے بارے میں مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ بعض اسے مقامی سماجی ڈھانچے اور روایتی نمائندگی سے جوڑتے ہیں جبکہ ناقدین اسے سیاسی طاقت اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم سے منسلک کرتے ہیں۔ تازہ اسمبلی کارروائی میں ان وسیع اختلافات کا اظہار بھی ہوا، تاہم ایوان نے کسی نئے قانونی نتیجے کا اعلان نہیں کیا۔

اسپیکر کی جانب سے 1976 کی قانون سازی کا حوالہ اس بحث کا اہم قانونی پہلو ہے۔ قرارداد مؤخر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایوان نے اس مرحلے پر سرداری نظام سے متعلق کوئی نیا پابندی والا قانون منظور نہیں کیا اور نہ ہی پہلے سے موجود قانونی فریم ورک میں فوری ترمیم کی گئی ہے۔ معاملہ دوبارہ ایوان کے سامنے آنے کی صورت میں ارکان کو موجودہ قانون، اس کے نفاذ اور صوبائی دائرہ اختیار کے سوالات کا سامنا ہوگا۔

اسی صوبائی اسمبلی میں دیگر انتظامی اور وسائل سے متعلق امور بھی زیر بحث آتے رہے ہیں، جن میں صوبے کے قدرتی وسائل اور وفاقی یا سرکاری کمپنیوں کے ساتھ انتظامات شامل ہیں۔ بلوچستان کی سیاست میں مقامی اختیار، وسائل کی تقسیم اور روایتی طاقت کے ڈھانچے باہم جڑے ہوئے موضوعات ہیں۔ تازہ پیش رفت کو اسی وسیع سیاسی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے، مگر فی الحال قابل تصدیق نتیجہ صرف یہ ہے کہ قرارداد مؤخر کر دی گئی ہے اور کوئی نیا قانونی حکم نافذ نہیں ہوا۔