اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے سرحد پار پاکستانی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ 27 اکتوبر کی پاکستانی رپورٹنگ کے مطابق اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ اس کی سکیورٹی کارروائیوں کا ہدف ایسے مسلح عناصر اور ٹھکانے ہوتے ہیں جنہیں پاکستان اپنی سرزمین پر حملوں سے جوڑتا ہے، اور شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے افغان دعوے درست نہیں۔
افغان حکام نے حالیہ کشیدگی کے دوران الزام عائد کیا تھا کہ پاکستانی کارروائیوں سے افغانستان میں عام شہری متاثر ہوئے۔ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے افغان طالبان حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر ایسے گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرے جو، پاکستانی حکام کے مطابق، افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی یا معاونت کرتے ہیں۔ کابل ماضی میں اس نوعیت کے پاکستانی الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔
دونوں ملکوں کے تعلقات حالیہ برسوں میں سرحدی سلامتی اور عسکریت پسندی کے مسئلے پر شدید دباؤ کا شکار رہے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافے کے بعد اسلام آباد نے بارہا کہا ہے کہ حملہ آوروں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔ افغان طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتی، تاہم پاکستان اس یقین دہانی کو ناکافی قرار دیتا رہا ہے اور قابلِ پیمائش کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔
حالیہ الزامات اور جوابی بیانات کو اسی وسیع تر تنازع کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ سرحدی علاقوں میں کسی کارروائی کے مقام، ہدف اور جانی نقصان سے متعلق ابتدائی دعوے اکثر متضاد ہوتے ہیں اور آزاد ذرائع کے لیے فوری تصدیق مشکل رہتی ہے۔ اسی لیے افغان حکام کے شہری ہلاکتوں کے دعوے اور پاکستانی حکام کی تردید کو فریقین کے سرکاری مؤقف کے طور پر بیان کرنا ضروری ہے، نہ کہ ایسے حتمی حقائق کے طور پر جن کی آزادانہ تحقیقات مکمل ہو چکی ہوں۔
اسلام آباد نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ پائیدار امن کے لیے دہشت گردی کے مسئلے پر عملی تعاون ناگزیر ہے۔ موجودہ سفارتی کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے، اور علاقائی شراکت دار بھی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تاہم فوری پیش رفت کا انحصار سرحدی واقعات میں کمی، عسکریت پسند گروہوں سے متعلق قابلِ تصدیق اقدامات اور دونوں حکومتوں کے درمیان اعتماد بحال کرنے پر ہوگا۔

