مسلسل اپ ڈیٹس

سرکاری ملازمین کی ترقی میں التوا — وفاقی آئینی عدالت کا اصولی فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ سنٹرل سلیکشن بورڈ کسی سرکاری افسر کے ترقی کیس کو بغیر نئی، ٹھوس اور قانونی بنیاد کے بار بار غیر معینہ مدت تک مؤخر نہیں کر سکتا، البتہ مسلسل تین بار التوا خودکار ترقی کا قانونی حق پیدا نہیں کرتا۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بینچ نے ایک پولیس افسر کی درخواست تو خارج کی مگر ترقی کے عمل میں انتظامی صوابدید کے استعمال کے لیے واضح شرائط وضع کیں: جب قواعد کے تحت ترقی کا وقت آئے تو معاملے پر بروقت اور معروضی معیار کے مطابق غور کیا جائے، منفی فیصلے کی واضح وجوہات بتائی جائیں اور افسر کو ان کمیوں کو دور کرنے کا حقیقی موقع دیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ زیرِ التوا انکوائری یا ریفرنس وقتی طور پر التوا کی وجہ بن سکتا ہے، مگر اگر بعد ازاں افسر بری یا کلیئر ہو جائے تو سابق وجہ برقرار نہیں رہتی اور انتظامیہ کو نئے التوا کے لیے تازہ قانونی بنیاد دکھانا ہوگی۔ فیصلے میں عدالت نے ترقی کے اختیار کو ختم نہیں کیا بلکہ شفافیت اور قانونی بنیاد کی شرط مضبوط کی، اور قائداعظم کی سول سروس پر ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے معروضی معیار کے نفاذ پر زور دیا گیا۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے