اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمین کی ترقی کے مقدمات سے متعلق اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سنٹرل سلیکشن بورڈ کسی افسر کے کیس کو بار بار مؤخر کر کے اس کی ترقی پر غور کو غیر معینہ مدت تک نہیں ٹال سکتا۔ عدالت نے ساتھ ہی واضح کیا کہ مسلسل تین بار التوا بھی کسی افسر کو خودکار طور پر ترقی کا قانونی حق نہیں دیتا، کیونکہ ترقی اہلیت، تقابلی میرٹ اور متعلقہ قواعد کے تحت طے ہوتی ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی کے تحریر کردہ 19 صفحات کے فیصلے میں ایسے افسران کے لیے قانونی تحفظات بیان کیے گئے ہیں جن کے ترقی کے کیس بار بار مؤخر ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے گریڈ 19 سے گریڈ 20 میں ترقی نہ ملنے کے خلاف ایک پولیس افسر کی درخواست مسترد کی، لیکن ترقی کے عمل میں انتظامی اختیار کے استعمال کے لیے واضح اصول وضع کیے۔
عدالت کے مطابق افسر کو یہ حق حاصل ہے کہ جب قواعد کے تحت اس کی ترقی کا وقت آئے تو اس کے کیس پر غور کیا جائے، فیصلہ مقررہ اور معروضی معیار پر ہو، جہاں پالیسی تقاضا کرے وہاں منفی فیصلے کی واضح وجوہات بتائی جائیں اور افسر کو اس کمی یا اعتراض کو دور کرنے کا حقیقی موقع دیا جائے جس کی بنیاد پر ترقی مؤخر ہوئی۔ عدالت نے کہا کہ نئی، ٹھوس اور قانونی طور پر متعلقہ وجہ کے بغیر مسلسل التوا قابل قبول نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر پہلے التوا کی بنیادی وجہ ختم ہو چکی ہو تو انتظامیہ کو کسی مزید التوا کے لیے نئی اور قانونی بنیاد دکھانا ہوگی۔ بصورت دیگر مسلسل التوا عملی طور پر ترقی پر غور سے مستقل انکار بن سکتا ہے، حالانکہ قواعد میں التوا کو سزا کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔
عدالت نے خاص طور پر یہ فرق واضح کیا کہ کسی انکوائری یا ریفرنس کا زیر التوا ہونا وقتی طور پر ترقی مؤخر کرنے کی وجہ بن سکتا ہے، لیکن اگر بعد میں افسر بری یا کلیئر ہو جائے تو وہ سابق وجہ برقرار نہیں رہتی۔ ایسی صورت میں متعلقہ اتھارٹی کو افسر کو دوبارہ قانونی طور پر ترقی کے عمل میں شامل کرنا ہوگا، البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ترقی لازماً دی جائے گی۔
فیصلے میں قائداعظم محمد علی جناح کی اپریل 1948 کی سول سرونٹس سے متعلق ہدایات کا بھی حوالہ دیا گیا اور غیر سیاسی، دیانت دار اور قانون کے مطابق سرکاری خدمت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے سروس اسٹرکچر اور کیریئر میں پیش رفت کے لیے معروضی معیار کا تحفظ اسی اصول سے جڑا ہے۔
یہ فیصلہ ترقی کے اختیار کو ختم نہیں کرتا بلکہ اس کے استعمال کے لیے شفافیت اور قانونی بنیاد کی شرط مضبوط کرتا ہے۔ متعلقہ ادارے اب بھی میرٹ اور موزونیت کا جائزہ لے سکتے ہیں، لیکن کسی افسر کے کیس کو کھلے اختتام کے ساتھ بار بار مؤخر کرنے کے لیے ہر مرتبہ قابل شناخت قانونی وجہ درکار ہوگی۔
