اسلام آباد پولیس نے دارالحکومت کی مصروف سڑکوں پر قائم چیک پوسٹس کی تعداد 24 سے کم کرکے 12 کر دی ہے اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے گشت بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس ریٹائرڈ کیپٹن سہیل چوہدری نے اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات میں بتایا کہ اقدام کا مقصد شہریوں کو غیر ضروری رکاوٹ سے بچانا، معمول کی ٹریفک بحال کرنا اور پولیس کی موجودگی کو جامد ناکوں کے بجائے متحرک گشت کے ذریعے مؤثر بنانا ہے۔

پولیس کے مطابق باقی رہ جانے والی چیک پوسٹس کے طریقہ کار کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ سکیورٹی انتظامات متاثر کیے بغیر مسافروں کو کم سے کم دشواری ہو۔ ای سیون، ایف سیون، دامن کوہ اور مصروف موٹروے لنک روڈ سمیت بعض مقامات سے پولیس ناکے ہٹائے گئے ہیں۔ آئی جی نے کہا کہ کنٹینرز ہٹانے اور ناکوں میں کمی کا مقصد شہری سہولت بڑھانا ہے، جبکہ پولیس جرائم کی روک تھام کے لیے پٹرولنگ پر زیادہ انحصار کرے گی۔

دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات اکثر سیاسی سرگرمیوں، حساس سرکاری تنصیبات اور بین الاقوامی تقریبات کے باعث سخت کیے جاتے رہے ہیں، جس سے بعض اوقات مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ موجودہ تبدیلی پولیس کی آپریشنل حکمت عملی میں ایک توازن پیدا کرنے کی کوشش ہے، جس میں مستقل ناکوں کی تعداد کم کرکے موبائل نگرانی اور گشت کو بڑھایا جا رہا ہے۔ اس حکمت عملی کی کامیابی کا اندازہ جرائم کے اعداد و شمار، ردعمل کے وقت اور شہریوں کی آمدورفت میں عملی بہتری سے ہوگا۔

آئی جی سہیل چوہدری نے پولیس اہلکاروں کے داخلی مسائل کے حل کو بھی فورس کی کارکردگی سے جوڑا اور کہا کہ وہ نچلے رینک کے اہلکاروں، خصوصاً کانسٹیبلز، سے ملاقاتوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پولیس اور صحافیوں کے وفد نے رابطہ کاری بہتر بنانے پر بھی اتفاق کیا۔ چیک پوسٹس میں کمی فوری طور پر دارالحکومت کی سڑکوں پر نظر آنے والی تبدیلی ہے، تاہم پولیس نے واضح کیا ہے کہ اس کا مقصد سکیورٹی کم کرنا نہیں بلکہ اسے ایسے طریقے سے منظم کرنا ہے جس سے شہری سہولت اور جرائم کی روک تھام دونوں مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔