ملتان: پولیس نے ڈی ایچ اے کے علاقے میں 15 سالہ مزدور وسیم عباس کی گاڑی کی ٹکر سے ہلاکت کے واقعے میں ایک ٹھیکیدار کو گرفتار کر کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے گرفتار شخص کی شناخت توقیر نذیر کے نام سے کی ہے۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک کم عمر لڑکے کو گاڑی دیکھ کر بھاگتے اور گاڑی کو اس کا تعاقب کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد گاڑی کی ٹکر سے لڑکا ایک قریبی گھر کے دروازے سے جا ٹکرایا۔

ریسکیو اور پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور لڑکے کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کی۔ پولیس کے مطابق وسیم عباس کا تعلق ضلع مظفرگڑھ سے تھا اور وہ توقیر نذیر کے ساتھ الیکٹریشن کے طور پر کام کر رہا تھا۔ ڈی ایچ اے پولیس نے واقعے کے بعد ریاست کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کیا اور ملزم کو حراست میں لے لیا۔

ابتدائی پولیس معلومات کے مطابق لڑکا مبینہ طور پر ٹھیکیدار سے ناراض ہو کر کام چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ الزام ہے کہ ٹھیکیدار نے پہلے پیدل اس کا تعاقب کیا اور بعد میں ایک ساتھی کے ساتھ گاڑی میں اس کے پیچھے گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی کی ٹکر کے نتیجے میں لڑکے کو سر پر شدید چوٹیں آئیں اور وہ جانبر نہ ہو سکا۔ یہ تفصیلات اس مرحلے پر پولیس کی ابتدائی تحقیقات اور دستیاب فوٹیج پر مبنی الزامات ہیں؛ کسی ملزم کی فوجداری ذمہ داری کا حتمی تعین عدالت میں شواہد کی جانچ کے بعد ہوگا۔

ملتان پولیس کے ترجمان کے مطابق گرفتار ملزم کو عدالت میں پیش کیا جانا تھا اور قانون کے مطابق چالان جمع کرانے کی کارروائی بھی کی جائے گی۔ تفتیش میں واقعے کے محرک، گاڑی کے استعمال، جائے وقوع کی فوٹیج اور موجود افراد کے کردار سمیت متعلقہ شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔ پولیس نے ایک دوسرے شخص امجد علی کا بھی ذکر کیا ہے، جو ابتدائی رپورٹ کے مطابق گاڑی میں ملزم کے ساتھ موجود تھا، تاہم اس کے خلاف قانونی حیثیت اور کارروائی کی مکمل تفصیل دستیاب رپورٹ میں واضح نہیں کی گئی۔

چونکہ مقتول کم عمر تھا اور روزگار سے وابستہ تھا، واقعہ بچوں سے مشقت، کام کی جگہ پر تحفظ اور ملازمین کے ساتھ برتاؤ جیسے وسیع تر سوالات بھی اٹھاتا ہے، تاہم موجودہ مقدمے میں پولیس کی فوری توجہ ہلاکت کے حالات اور ممکنہ فوجداری ذمہ داری کی تفتیش پر ہے۔ خبر میں کسی غیر ثابت شدہ دعوے کو عدالتی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔

پوسٹ مارٹم اور مزید تفتیش کے نتائج مقدمے میں اہم ہوں گے۔ گرفتاری بذات خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں، اور ملزم کو قانون کے تحت دفاع اور منصفانہ سماعت کا حق حاصل ہے۔