کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع قلات میں اغوا کیے گئے پولیس کے 20 زیر تربیت اہلکاروں کو محفوظ بازیاب کر لیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے ڈان کو بتایا کہ قلات پولیس ٹریننگ سینٹر سے تعلق رکھنے والے تمام اہلکار خیریت سے ہیں اور انہیں قلات ضلع کے منگوچر علاقے سے بازیاب کیا گیا۔ حکام نے فوری طور پر یہ تفصیل جاری نہیں کی کہ بازیابی کس کارروائی، مذاکرات یا دوسرے طریقہ کار کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔

یہ اہلکار ہفتہ وار چھٹی پر گھروں کو جانے کے لیے ایک نجی مسافر وین میں قلات سے نوشکی کی جانب سفر کر رہے تھے جب مسلح افراد نے انہیں راستے میں روک کر اغوا کر لیا تھا۔ ابتدائی واقعے کی رپورٹ کے مطابق مسلح افراد نے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر وین کو روکا اور زیر تربیت اہلکاروں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ بعد میں سکیورٹی فورسز نے ان کی تلاش کے لیے قریبی پہاڑی علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کیا تھا۔

18 اکتوبر کو شائع ہونے والی ابتدائی رپورٹ میں بلوچستان حکومت کے ایک سینئر اہلکار نے تصدیق کی تھی کہ 20 زیر تربیت اہلکار اغوا ہوئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ان اہلکاروں کا تعلق رخشان ڈویژن سے تھا اور وہ لیویز فورس کے اہلکار تھے، جسے بعد میں پولیس میں ضم کیا گیا۔ حملہ آوروں نے وین کے ڈرائیور اور تین دیگر مسافروں کو چھوڑ دیا تھا، جبکہ زیر تربیت اہلکاروں کو نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔

اس وقت کسی گروہ نے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔ تازہ بازیابی کی رپورٹ میں بھی کسی تنظیم کا نام نہیں لیا گیا اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ اغوا کاروں کی شناخت ہوئی یا کوئی گرفتاری عمل میں آئی۔ اس لیے واقعے کے ذمہ داروں، ان کے مقصد اور بازیابی کے طریقہ کار سے متعلق غیر مصدقہ قیاس آرائی سے گریز ضروری ہے۔

ایک سینئر پولیس افسر نے تصدیق کی کہ تمام اہلکار محفوظ ہیں۔ یہ پیش رفت ان اہلکاروں کے اہل خانہ اور پولیس کے لیے اہم ہے، تاہم اغوا کے واقعے کی فوجداری تحقیقات الگ معاملہ ہیں۔ حکام کی جانب سے ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ زیر تربیت اہلکاروں کے بیانات کب ریکارڈ کیے جائیں گے یا واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی اور دیگر شواہد کی کیا صورتحال ہے۔

بلوچستان میں شاہراہوں اور دور دراز علاقوں میں سکیورٹی اہلکاروں اور سرکاری تنصیبات پر حملوں کے باعث نقل و حرکت کی سکیورٹی ایک اہم مسئلہ ہے۔ موجودہ واقعے میں فوری تصدیق شدہ نتیجہ یہ ہے کہ 20 مغوی زیر تربیت اہلکار زندہ اور محفوظ بازیاب ہو گئے ہیں؛ ذمہ دار افراد کے تعین اور ممکنہ قانونی کارروائی کے لیے مزید سرکاری معلومات کا انتظار ہے۔