اسلام آباد: سینیٹ نے پاسپورٹ ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے، جس کا مقصد سرکاری یا سرکاری حیثیت رکھنے والے افراد کے اہل خانہ کو بلیو یعنی آفیشل پاسپورٹ جاری کرنے کے موجودہ قواعد میں تبدیلی لانا ہے۔ سینیٹر عبدالقادر کی جانب سے پیش کردہ بل کے دوران ایوان میں بلیو پاسپورٹس کی اہلیت، پارلیمنٹیرینز کے حقوق اور حالیہ منسوخیوں پر تفصیلی بحث ہوئی۔

پاکستان میں بلیو پاسپورٹ کو آفیشل یا گریٹس پاسپورٹ کے طور پر مخصوص سرکاری عہدیداروں، ریاستی نمائندوں اور مجاز افراد کو سرکاری سفر کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ بحث کے دوران سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ گریڈ 21 کے بعض سرکاری افسران کے بچوں کو یہ سہولت ملتی ہے جبکہ منتخب ارکان کے لیے قواعد مختلف ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اصول سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔

ایوان میں تقریباً 30 ہزار بلیو پاسپورٹس کی منسوخی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے سینیٹ کو بتایا کہ حکومت نے بلیو پاسپورٹس کی تعداد تقریباً 75 ہزار سے کم کر کے 45 ہزار کر دی ہے اور منسوخ کیے گئے پاسپورٹس میں سیاسی نمائندوں کے پاسپورٹ شامل نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں آفیشل پاسپورٹس پاکستان کی بین الاقوامی پاسپورٹ درجہ بندی اور مختلف ممالک کے ساتھ ویزا سہولتوں کی کوششوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

سینیٹر دلاور خان نے منسوخ کیے گئے تقریباً 30 ہزار پاسپورٹس کے اجرا کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر کسی نااہل شخص کو پاسپورٹ جاری ہوا تھا تو ذمہ دار حکام کا تعین کیا جانا چاہیے۔ سینیٹر عابد شیر علی نے بھی وزارت داخلہ اور پاسپورٹ حکام کی جانب سے پارلیمنٹیرینز پر مبینہ انتظامی پابندیوں پر سوال اٹھائے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔

سینیٹ کی منظوری کے باوجود بل فوری طور پر نافذ قانون نہیں بنا۔ پارلیمانی قانون سازی کے عمل کے مطابق اسے قومی اسمبلی سے بھی منظوری درکار ہوگی اور اس کے بعد آئینی تقاضوں کے تحت اگلے مراحل مکمل ہوں گے۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو سینیٹ کی قانون ساز منظوری کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے، نہ کہ حتمی نافذ شدہ قانون کے طور پر۔

بحث سے واضح ہوا کہ معاملہ صرف پارلیمنٹیرینز کی سہولت تک محدود نہیں بلکہ آفیشل پاسپورٹس کے اجرا، اہلیت، بین الاقوامی سفری مذاکرات اور انتظامی جواب دہی سے بھی جڑا ہے۔ آئندہ مرحلے میں قومی اسمبلی میں بل کی صورت اور ممکنہ ترامیم یہ طے کریں گی کہ حتمی قانون میں کن افراد اور اہل خانہ کے لیے بلیو پاسپورٹ کی اہلیت برقرار رہتی ہے۔