مسلسل اپ ڈیٹس

وفاقی آئینی عدالت — سپریم کورٹ فیصلوں کے نفاذ میں تاخیر پر تشویش (2021 ملازمین کیس)

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بینچ (چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی) نے سپریم کورٹ کے 17 دسمبر 2021 کے فیصلے پر عمل درآمد میں تاخیر پر سخت تشویش ظاہر کی۔ یہ معاملہ اُن سرکاری ملازمین سے متعلق ہے جنہیں پیپلز پارٹی دور کے سَیکڈ ایمپلائز (ری انسٹیٹمنٹ) آرڈیننس 2010 کے تحت بحال یا ترقی دی گئی تھی اور بعد میں سپریم کورٹ نے اس قانون کو غیر آئینی قرار دیا تھا — تقریباً 17 ہزار ملازمین اس فیصلے سے متاثر ہوئے۔ بینچ میں شامل جسٹس علی باقر نجفی نے لکھے گئے حکم میں قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات سفارش نہیں بلکہ قانونی مینڈیٹ ہیں، متعلقہ اداروں نے 2021 فیصلے کے تحت ٹیسٹ (جن میں بعض FPSC کے ذریعے تین ماہ کے اندر مقرر تھے) کا اہتمام نہیں کیا اور طویل تاخیر کی وجہ سے عائد شرائط عملاً کمزور ہوئی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ عدالتی احکامات کی عدم تعمیل عدالتی نظام اور عوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہے؛ موجودہ مشاہدات زیرِ سماعت توہین عدالت درخواستوں سے متعلق ہیں اور حتمی سزا یا ذمہ داری کے تعین کے طور پر نہیں دیکھے جانے چاہئیں۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے