اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے برطرف سرکاری ملازمین سے متعلق سپریم کورٹ کے 17 دسمبر 2021 کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر سخت تشویش ظاہر کی ہے اور قرار دیا ہے کہ اعلیٰ عدالت کے فیصلوں کو نظر انداز کرنا یا ان کے نفاذ میں تاخیر قانونی نظام کے بنیادی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواستوں کی سماعت کی۔ بینچ میں شامل جسٹس علی باقر نجفی نے اپنے دس صفحات پر مشتمل حکم میں عدالتی فیصلوں کی پابندی کو آئینی تقاضا قرار دیا اور واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات محض مشورہ یا سفارش نہیں بلکہ قابلِ عمل قانونی مینڈیٹ ہوتے ہیں۔
یہ مقدمہ ان سرکاری ملازمین سے متعلق ہے جن کی ملازمتیں پیپلز پارٹی کے دور کے سَیکڈ ایمپلائز (ری انسٹیٹمنٹ) آرڈیننس ایکٹ 2010 کے تحت بحال یا ان کی ترقی ہوئی تھی۔ بعد میں سپریم کورٹ نے اس قانون کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً 17 ہزار ملازمین متاثر ہوئے۔ بعد ازاں نظرثانی کے مرحلے میں عدالت نے بعض ملازمین کے روزگار کے حق کے تحفظ کے لیے شرائط کے ساتھ ریلیف دیا تھا۔
وفاقی آئینی عدالت کے مطابق 2021 کے فیصلے میں مستفید ملازمین کے لیے متعلقہ آسامی کے مطابق ٹیسٹ کا انتظام کیا گیا تھا، جن میں بعض ٹیسٹ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے تین ماہ کے اندر ہونا تھے۔ عدالت نے کہا کہ قابلیت، تعلیمی استعداد یا مہارت کے ٹیسٹ کا انعقاد متعلقہ آجر کی ذمہ داری تھی، اور اگر اداروں نے یہ عمل مکمل نہیں کیا تو اس کا نقصان ان ملازمین کو نہیں پہنچایا جا سکتا جنہوں نے ٹیسٹ دینے سے انکار نہیں کیا۔
جسٹس علی باقر نجفی نے قرار دیا کہ طویل مدت گزرنے اور متعلقہ محکموں کی سستی کے باعث عائد شرائط عملاً نرم یا غیر مؤثر ہو چکی ہیں، اور اس تاخیر کا ذمہ دار ملازمین کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ حکم میں عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کو قانون کی حکمرانی، ادارہ جاتی توازن اور عوامی اعتماد کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔
عدالت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اگر ریاستی ادارے عدالتی فیصلوں کو آسانی سے نظر انداز کر سکیں تو اس سے نہ صرف عدلیہ پر عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے بلکہ انتظامیہ کے دائرۂ اختیار سے تجاوز کا خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ یہ مشاہدات زیرِ سماعت توہین عدالت درخواستوں کے تناظر میں سامنے آئے ہیں؛ انہیں کسی فریق کے خلاف حتمی توہین عدالت سزا یا حتمی ذمہ داری کے تعین کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
