اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ وفاقی وزارتوں اور اداروں کو گلگت بلتستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کرنے اور ان کی بروقت تکمیل کے لیے فنڈز کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایات اسلام آباد میں گلگت بلتستان کے وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس میں دی گئیں، جس میں گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ امجد حسین نے بھی شرکت کی۔
سرکاری تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم رکھا جائے تاکہ عمل درآمد کی رفتار بہتر ہو۔ اجلاس میں توانائی، بنیادی ڈھانچے، شمسی توانائی اور دیگر وفاقی منصوبوں کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے لیے شروع کیے گئے 100 میگاواٹ سولر پاور منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے کی خصوصی ہدایت کی۔ اجلاس میں نلتر پاور پراجیکٹ کی تکمیل، خطے میں انسداد دہشت گردی کی صلاحیت مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تنصیب سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ وزیراعظم نے بالخصوص توانائی سے متعلق منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی پر زور دیا تاکہ ان کے فوائد مقامی آبادی تک جلد پہنچ سکیں۔
اجلاس میں اس کمیٹی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی جو رواں سال جولائی میں وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کی گئی تھی۔ کمیٹی نے گلگت بلتستان میں جاری وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی صورتحال، ان پر عمل درآمد میں موجود رکاوٹوں اور بروقت تکمیل کے لیے درکار اقدامات کا جائزہ لیا تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کی ترقی، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور مقامی آبادی کے معیار زندگی میں بہتری وفاقی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں یکم نومبر کو گلگت بلتستان کے تاریخی دن کے حوالے سے مقامی آبادی کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ وزیراعظم کا یکم نومبر کو گلگت بلتستان کا دورہ بھی متوقع ہے۔
حکومتی ہدایات کے بعد اصل توجہ اب منصوبوں کی عملی رفتار، فنڈز کے بروقت اجرا اور وفاقی و علاقائی اداروں کے درمیان رابطے پر ہوگی۔ اجلاس میں دی گئی ہدایات منصوبوں کی تکمیل کے اہداف ہیں؛ ان کی پیش رفت کا تعین آئندہ سرکاری نگرانی اور عملی نتائج سے ہوگا۔
