اسلام آباد: ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر، وکیل ہادی علی چٹھہ، کو سکیورٹی انتظامات میں خلل سے متعلق مقدمے میں 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فیصلہ اڈیالہ جیل میں سنایا گیا، جہاں دونوں زیر حراست تھے۔
رپورٹ کے مطابق مقدمہ 2024 میں ایک احتجاج کے دوران سڑک بند کرنے اور ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی انتظامات کو مبینہ طور پر خطرے میں ڈالنے کے الزامات سے متعلق تھا۔ عدالت نے سرکاری اہلکاروں کے کام میں رکاوٹ اور ان پر حملے سے متعلق دفعات کے تحت ایک اور دو سال کی سزائیں بھی سنائیں، تاہم تمام سزائیں بیک وقت چلنے کی اطلاع دی گئی ہے۔
یہ عدالتی فیصلہ الزامات پر فوجداری کارروائی کا نتیجہ ہے، تاہم دونوں وکلا ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ ان کے مؤقف اور اہل خانہ کے بیانات کو عدالتی فیصلے سے الگ طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایمان مزاری کی والدہ نے عدالتی عمل سے متعلق اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ خاندان سپریم کورٹ میں اپیل کرے گا۔ یہ اعتراضات اہل خانہ کا مؤقف ہیں اور انہیں کسی عدالتی فورم کی حتمی finding کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔
دونوں وکلا اس سے قبل سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ایک دوسرے مقدمے میں بھی سزا پا چکے تھے۔ رائٹرز کے مطابق سپریم کورٹ نے ستمبر میں اس سابقہ مقدمے کی سزائیں معطل کی تھیں، لیکن اسی روز انہیں موجودہ سکیورٹی کیس میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔
تازہ سزا کے بعد قانونی توجہ متوقع اپیل اور اعلیٰ عدلیہ میں اٹھائے جانے والے نکات پر مرکوز رہے گی۔ دستیاب رپورٹ میں خاندان نے واضح کیا ہے کہ فیصلے کو چیلنج کیا جائے گا۔ جب تک اپیل پر کوئی نیا عدالتی حکم سامنے نہیں آتا، موجودہ صورت حال انسداد دہشت گردی عدالت کے سنائے گئے فیصلے کے مطابق ہے۔ معاملہ سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں حساس نوعیت رکھتا ہے، اس لیے الزامات، دفاعی مؤقف، عدالتی حکم اور ممکنہ اپیل کو الگ الگ قانونی مراحل کے طور پر بیان کرنا ضروری ہے۔
