اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ڈائریکٹوریٹ آف بلڈنگ کنٹرول (سٹی) نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر جی-6 میں واقع رہائش گاہ سے گارڈ روم اور بعض تعمیرات ہٹانے کے لیے 15 روز کا انتباہی نوٹس جاری کیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق نوٹس 30 اکتوبر کو جائیداد کے قانونی مالک کے نام جاری کیا گیا اور اسے رہائش گاہ کے باہر آویزاں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020، جن میں 2023 میں ترامیم کی گئی تھیں، کے تحت تین مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی۔ ان میں عمارت کے مقررہ کھلے حصوں یا سیٹ بیکس میں تعمیر، سی ڈی اے کی زمین پر گارڈ پوسٹ اور سرکاری زمین پر جنریٹر رکھنے کا معاملہ شامل ہے۔ یہ نکات اتھارٹی کے نوٹس میں عائد کیے گئے الزامات ہیں اور انہیں کسی عدالتی فیصلے یا حتمی قانونی نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
سی ڈی اے کے نوٹس میں کہا گیا کہ ریکارڈ کے مطابق مالک نے مارچ 2019 میں این او سی کے اجرا کے وقت ایک حلف نامہ جمع کرایا تھا جس میں سیٹ بیک سے متعلق خلاف ورزیاں تین ماہ میں دور کرنے اور قواعد کی پابندی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ اتھارٹی کا موقف ہے کہ اس یقین دہانی پر عمل نہیں ہوا۔ اسی بنیاد پر متعلقہ تعمیرات اور تنصیبات کو 15 دن میں ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ مقررہ قانونی تقاضے پورے نہ کیے گئے تو سی ڈی اے متعلقہ آرڈیننس اور بلڈنگ کنٹرول قواعد کے تحت کارروائی کر سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ممکنہ اقدامات میں خلاف ورزی قرار دی گئی تعمیرات کو سیل یا منہدم کرنا اور الاٹمنٹ کی منسوخی سے متعلق کارروائی شروع کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ تاہم اس مرحلے پر ایسی کسی حتمی کارروائی کی تصدیق نہیں ہوئی اور معاملہ نوٹس کے مرحلے میں ہے۔
دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مولانا اسجد محمود نے نوٹس کے اجرا پر اعتراض کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ اقدام ایک سینئر فوجی افسر سے منسوب مبینہ تجاوزات کی نشاندہی کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے اسے سیاسی اختلاف کو ذاتی انتقام میں بدلنے سے تعبیر کیا۔ ان کا یہ مؤقف ایک فریق کا الزام ہے؛ دستیاب رپورٹ میں سی ڈی اے کی جانب سے اس سیاسی انتقام کے دعوے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
اس پیش رفت کے بعد معاملہ انتظامی قواعد، جائیداد کے استعمال اور سیاسی ردعمل تینوں حوالوں سے اہم ہو گیا ہے۔ آئندہ مرحلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ جائیداد کے مالک یا مکین نوٹس کا کیا جواب دیتے ہیں اور سی ڈی اے مقررہ مدت کے بعد کون سا قانونی یا انتظامی قدم اٹھاتا ہے۔
