اسکردو: وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے اعلان کیا ہے کہ خطے کے مختلف محکموں میں 10 ہزار سے زائد ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔ سرکاری ریڈیو کے مطابق انہوں نے اسکردو میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا اور کہا کہ حکومت تمام شعبوں میں میرٹ کو ترجیح دے گی۔
وزیراعلیٰ کا بیان گلگت بلتستان میں سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے ایک بڑا عددی ہدف پیش کرتا ہے، تاہم دستیاب سرکاری رپورٹ میں ان آسامیوں کی محکمہ وار تقسیم، گریڈ، اہلیت، بھرتی کا طریقہ کار یا اشتہارات جاری کرنے کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ 10 ہزار سے زائد ملازمتیں ایک ہی مالی سال میں پُر کی جائیں گی یا مرحلہ وار بھرتی کے ذریعے یہ ہدف حاصل کیا جائے گا۔
اعلان میں میرٹ کو ترجیح دینے پر خاص زور دیا گیا ہے۔ اس اصول کے عملی اطلاق کے لیے امیدواروں کو متعلقہ محکموں کے باضابطہ اشتہارات، مقررہ اہلیت، کوٹہ قواعد، امتحانی یا انتخابی طریقہ کار اور درخواست کی آخری تاریخوں کا انتظار کرنا ہوگا۔ صرف سیاسی یا حکومتی اعلان کو کسی فرد کی تقرری یا مخصوص آسامی کی دستیابی کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔
گلگت بلتستان میں سرکاری شعبہ روزگار کا ایک اہم ذریعہ ہے، اس لیے اتنی بڑی تعداد میں ملازمتوں کا اعلان نوجوان امیدواروں اور مختلف اضلاع کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم شفافیت کا اصل پیمانہ اس وقت سامنے آئے گا جب آسامیوں کی مکمل تفصیل، محکمہ وار ضرورت اور بھرتی کے قواعد عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔
سرکاری خبر میں وزیراعلیٰ کے اعلان کے علاوہ بجٹ پر ممکنہ مالی اثر، تنخواہوں کے لیے مختص رقم یا نئی اور پہلے سے منظور شدہ خالی آسامیوں کے تناسب کی تفصیل موجود نہیں۔ اسی وجہ سے اس مرحلے پر خبر کا تصدیق شدہ دائرہ وزیراعلیٰ کی جانب سے 10 ہزار سے زائد ملازمتیں فراہم کرنے کے اعلان اور میرٹ کو ترجیح دینے کے عزم تک محدود ہے۔ آئندہ سرکاری نوٹیفکیشن اور محکموں کے اشتہارات اس پروگرام کی عملی نوعیت اور وقت کا تعین کریں گے۔
