راولپنڈی: شہر کے سیوریج میں پولیو وائرس کی موجودگی کی اطلاع کے بعد ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت نے 2 نومبر سے ایک اور انسداد پولیو ویکسینیشن مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق تیسرے فریق کی نگرانی میں کیے گئے سروے میں راولپنڈی کے سیوریج، بالخصوص نالہ لئی کے نمونوں میں وائرس کی قابل ذکر موجودگی سامنے آئی، جس کے بعد حکام نے نئی مہم کی منظوری دی۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال کے دوران مقامی حکام نے اس سے قبل کہا تھا کہ شہر کے سیوریج سے پولیو وائرس کا خاتمہ ہو چکا ہے، تاہم تازہ ماحولیاتی نگرانی کے نتائج نے وائرس کی دوبارہ موجودگی کی نشاندہی کی ہے۔ ماحولیاتی نمونوں میں وائرس ملنے کا مطلب لازماً کسی نئے انسانی کیس کی تصدیق نہیں ہوتا، لیکن یہ آبادی میں وائرس کی گردش کے خطرے کا اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ویکسینیشن اور نگرانی کی سرگرمیاں بڑھائی جاتی ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت نے نومبر کی مہم کے علاوہ دسمبر میں بھی سال کی آخری انسداد پولیو مہم منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ حکام کے لیے ایک اہم چیلنج ایسے خاندانوں تک رسائی ہے جو بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ انکار کے واقعات بدستور سامنے آ رہے ہیں، جس سے ویکسینیشن ٹیموں کی مکمل کوریج کی کوشش متاثر ہو سکتی ہے۔
پولیو کے خاتمے کی حکمت عملی میں بار بار ویکسینیشن کے ساتھ سیوریج کے نمونوں کی باقاعدہ جانچ اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ اس سے وائرس کی خاموش گردش کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔ راولپنڈی میں تازہ نتیجہ حکام کے لیے اس امر کی یاد دہانی ہے کہ منفی نمونوں کے ایک دور کے بعد بھی نگرانی اور حفاظتی ٹیکوں کا سلسلہ برقرار رکھنا ضروری ہے۔
نئی مہم کی کامیابی کا انحصار ہدف بنائے گئے بچوں تک ویکسین کی رسائی، انکاری خاندانوں سے مؤثر رابطے، فیلڈ ٹیموں کی حفاظت اور ماحولیاتی نگرانی کے مسلسل نتائج پر ہوگا۔ حکام نے فی الحال 2 نومبر سے مہم شروع کرنے کی منظوری دی ہے، جبکہ آئندہ نمونوں کے نتائج سے وائرس کی گردش میں تبدیلی کا اندازہ لگایا جائے گا۔
