اسلام آباد: پاکستان کے سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مسلح افواج نے جنوبی وزیرستان اور پاراچنار سے ملحق سرحدی علاقوں میں افغان طالبان کی متعدد پوسٹوں اور فوجی پوزیشنوں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا۔ ڈان کے مطابق یہ کارروائی انگور اڈہ کے علاقے میں منگل کو ہونے والی سرحد پار فائرنگ کے جواب میں کی گئی۔ چونکہ ہلاکتوں اور نقصان سے متعلق تفصیلات بنیادی طور پر پاکستانی سکیورٹی ذرائع اور سرکاری میڈیا سے منسوب ہیں، ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں پیش نہیں کی گئی۔
ریڈیو پاکستان نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ پاکستانی فوج نے افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کا جواب دیا اور بھاری ہتھیار استعمال کرتے ہوئے متعدد سرحدی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔ سرکاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ کارروائی کے دوران افغان طالبان کے اہلکار اپنی بعض پوسٹیں چھوڑ گئے اور متعدد اہلکار ہلاک ہوئے۔ افغان جانب سے ان مخصوص نقصانات کی آزاد یا متفقہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
پاکستانی حکام کے مطابق منگل کو افغان علاقے میں قائم پوسٹوں سے پاکستانی سرحدی چوکیوں اور رہائشی علاقوں پر اسنائپر، چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی تھی۔ اس واقعے میں ایک مقامی شخص جان سے گیا اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے فوری جوابی کارروائی میں سرحد پار متعدد پوسٹوں، مارٹر پوزیشنوں اور دفاعی بنکروں کو چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں، بشمول توپ خانے، سے نشانہ بنایا۔
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور شہریوں پر حملے برداشت نہیں کرے گا۔ دوسری جانب افغانستان کی وزارت دفاع نے واقعے سے متعلق ایک مختلف مؤقف پیش کرتے ہوئے پاکستان کو جارح قرار دیا تھا، جسے پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے غلط بیانی قرار دیا۔ اس اختلاف کی وجہ سے واقعے کی ذمہ داری اور بعض عملی تفصیلات دونوں ممالک کے متضاد دعوؤں کا حصہ ہیں۔
انگور اڈہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک حساس سرحدی گزرگاہ ہے جو مقامی آمدورفت اور تجارت کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک پناہ گاہیں پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں، جبکہ کابل ماضی میں پاکستانی الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
ستمبر اور اکتوبر میں بھی پاک افغان سرحد کے مختلف حصوں میں فائرنگ، ڈرون واقعات اور جوابی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ پاکستان نے بعض مواقع پر افغانستان کے اندر دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی، جبکہ کابل نے ایسی کارروائیوں پر اعتراض کیا۔ تازہ انگور اڈہ واقعہ اس کشیدگی کے تسلسل کی نشاندہی کرتا ہے اور دونوں جانب فوجی رابطے اور سفارتی ذرائع فعال رکھنے کی اہمیت بڑھاتا ہے تاکہ مقامی جھڑپ وسیع تر تصادم میں تبدیل نہ ہو۔
