کراچی: سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے زیر انتظام ہسپتالوں میں طویل عرصے سے خراب پڑی تشخیصی مشینوں پر سخت برہمی ظاہر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کی معائنہ ٹیم سے جامع تحقیقات کرانے کا حکم دیا ہے۔ کمیٹی نے تحقیقات کا دائرہ کے ایم سی کے علاوہ سندھ کے دیگر سرکاری ہسپتالوں میں غیر فعال ایکسرے، سی ٹی اسکین، الٹراساؤنڈ، ایم آر آئی اور ای سی جی مشینوں تک بڑھانے اور ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس نثار کھوڑو کی صدارت میں سندھ اسمبلی میں ہوا، جہاں کے ایم سی کے 2024 اور 2025 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ معائنے کے دوران سوبھراج میٹرنٹی ہسپتال سمیت مختلف بلدیاتی طبی مراکز میں ضروری تشخیصی آلات غیر فعال پائے گئے تھے۔

سوبھراج ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے کمیٹی کے سامنے تسلیم کیا کہ ہسپتال کی ایکسرے مشین 2022 سے 2025 تک خراب رہی اور اسے حال ہی میں مرمت کیا گیا۔ کمیٹی کے چیئرمین نے سوال اٹھایا کہ ملک کا سب سے بڑا بلدیاتی ادارہ تین برس تک ایک بنیادی تشخیصی مشین کی مرمت کے لیے وسائل کیوں فراہم نہ کرسکا۔ انہوں نے معاملے کو مریضوں کی سہولت اور انتظامی ذمہ داری سے جوڑا۔

کمیٹی کے رکن طحہٰ احمد نے کہا کہ تشخیصی مشینوں کی طویل بندش سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ اجلاس میں یہ مسئلہ بھی اٹھایا گیا کہ صوبے کے بعض مراکز میں مہنگی ایم آر آئی اور دیگر مشینیں یا تو خراب ہیں یا تکنیکی عملے کی کمی کے باعث استعمال نہیں ہو رہیں، جس کے نتیجے میں مریضوں کو نجی لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کرانے پڑ سکتے ہیں۔ یہ نکات کمیٹی میں پیش کیے گئے اور ان کی جامع تصدیق اب حکم دی گئی تحقیقات کا حصہ ہوگی۔

کے ایم سی کے میونسپل کمشنر ابرار احمد جعفر نے بتایا کہ کارپوریشن کے تحت 13 ہسپتال کام کر رہے ہیں اور میئر ذاتی طور پر ہسپتالوں کے دورے کرکے سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کمیٹی نے طبی آلات کے ساتھ ساتھ ملازمین کی حاضری سے متعلق پہلے احکامات پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کے ایم سی کے دس ہزار سے زائد ملازمین کی جسمانی تصدیق، ان کی تعلیمی اسناد کی ہائر ایجوکیشن کمیشن سے جانچ اور بائیومیٹرک حاضری کا نظام فوری نصب کرنے کی ہدایت بھی کی۔ کمیٹی نے صوبائی چیف سیکریٹری سے کہا کہ ان احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

تحقیقات کا حکم کسی افسر کے خلاف حتمی بدعنوانی یا غفلت کا فیصلہ نہیں ہے۔ سی ایم آئی ٹی کی رپورٹ سے یہ واضح ہونا باقی ہے کہ مشینوں کی بندش کی وجوہات کیا تھیں، مرمت اور تکنیکی عملے کی فراہمی میں کس سطح پر رکاوٹ رہی اور آیا کسی فرد یا ادارے کی انتظامی ذمہ داری بنتی ہے۔ ایک ماہ کی مقررہ مدت کے بعد کمیٹی رپورٹ کی بنیاد پر مزید کارروائی کا فیصلہ کرسکتی ہے۔