پشاور: خیبر پختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں نگرانی اور عملی معاونت بہتر بنانے کے لیے ڈرون اور اینٹی ڈرون نظام کو اپنے جدید تکنیکی ڈھانچے میں شامل کر لیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق نئی ٹیکنالوجی کو پشاور کے سیف سٹی نیٹ ورک کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ حساس علاقوں، آپریشنز اور ممکنہ خطرات کی بہتر نگرانی ممکن ہو سکے۔

خیبر پختونخوا کو حالیہ برسوں میں دہشت گرد حملوں اور سرحدی علاقوں میں سکیورٹی خطرات کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث پولیس اور انسداد دہشت گردی یونٹس کے لیے دور سے نگرانی، بروقت معلومات اور اہلکاروں کے تحفظ کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ ڈرون نظام زمین پر موجود ٹیموں کو فضائی منظر فراہم کر سکتا ہے جبکہ اینٹی ڈرون آلات غیر مجاز یا مشتبہ بغیر پائلٹ فضائی نظام کی شناخت اور مقابلے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

پشاور سیف سٹی منصوبے میں کیمروں، کمانڈ اینڈ کنٹرول سہولتوں اور ڈیجیٹل نگرانی کے دیگر وسائل کو یکجا کیا گیا ہے۔ نئی صلاحیتوں کا مقصد مختلف ڈیٹا ذرائع کو ایک آپریشنل تصویر میں لانا ہے تاکہ پولیس افسران موقع کی صورت حال کا بہتر اندازہ لگا سکیں۔ حکام اسے انسداد دہشت گردی کے ساتھ عمومی امن و امان، حساس مقامات کی نگرانی اور فوری ردعمل میں بھی معاون سمجھتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کا استعمال خود بخود کسی آپریشن کے نتیجے کی ضمانت نہیں دیتا اور اس کی افادیت تربیت یافتہ عملے، قابل اعتماد مواصلاتی نظام، مناسب قواعد اور مسلسل دیکھ بھال پر منحصر ہوگی۔ نگرانی کی جدید صلاحیتوں کے ساتھ شہری رازداری، ڈیٹا کے محفوظ استعمال اور قانونی نگرانی کے تقاضے بھی اہم رہیں گے۔ پولیس کی جانب سے اس نظام کی شمولیت ایسے وقت ہوئی ہے جب صوبے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کے باعث اہلکاروں کے تحفظ اور خطرات کی پیشگی شناخت پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ نئی ٹیکنالوجی کا عملی امتحان اس کی فیلڈ تعیناتی اور حقیقی کارروائیوں میں کارکردگی سے ہوگا۔