اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ برطرف سرکاری ملازمین سے متعلق سپریم کورٹ کے 2021 کے فیصلے پر فوری طور پر عملدرآمد کیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ فیصلے کے تحت جن ملازمین کو بحالی یا تقرری کا حق حاصل ہے، ان کے معاملات کو مزید تاخیر کے بغیر نمٹایا جائے۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بینچ نے برطرف ملازمین سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران عملدرآمد کی صورت حال کا جائزہ لیا۔ مقدمہ ان ملازمین سے متعلق ہے جو مختلف ادوار میں وفاقی محکموں اور سرکاری اداروں میں ملازمت سے برطرف ہوئے اور بعد میں قانون سازی اور عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں ان کے روزگار کی حیثیت پیچیدہ قانونی تنازع بن گئی۔
سپریم کورٹ نے 2021 میں Sacked Employees (Reinstatement) Ordinance Act 2010 کو غیر آئینی قرار دیا تھا، تاہم بعد کے عدالتی حکم میں بعض زمروں کے ملازمین کے لیے ریلیف اور شرائط طے کی گئی تھیں۔ موجودہ کارروائی کا مرکز انہی عدالتی ہدایات پر انتظامی عملدرآمد ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے متعلقہ محکموں سے کہا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کے مطابق اہل افراد کے کیسز مکمل کریں، نہ کہ پہلے سے طے شدہ قانونی اصولوں کو دوبارہ کھولیں۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ متعدد ملازمین اب بھی اپنے معاملات کے حتمی انتظامی فیصلوں کے منتظر ہیں۔ عدالت نے تاخیر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکام کو عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ یہ حکم تمام درخواست گزاروں کے لیے خودکار طور پر ملازمت کی ضمانت نہیں ہے؛ ہر معاملہ 2021 کے فیصلے میں مقرر کردہ قانونی شرائط اور متعلقہ ریکارڈ کے مطابق دیکھا جانا ہے۔
برطرف ملازمین کا تنازع کئی وفاقی اداروں، سرکاری کارپوریشنوں اور محکموں سے جڑا رہا ہے اور اس کے مالی و انتظامی اثرات بھی ہیں۔ موجودہ حکم کا عملی نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ متعلقہ ادارے عدالتی معیار کے مطابق اہل ملازمین کی فہرستوں، سروس ریکارڈ اور تقرری یا بحالی کے معاملات کو کتنی جلد مکمل کرتے ہیں۔ عدالت کی تازہ ہدایت بنیادی طور پر پہلے سے موجود عدالتی فیصلے کے نفاذ کو تیز کرنے سے متعلق ہے، کوئی نیا عمومی بحالی قانون وضع نہیں کیا گیا۔

