اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ سے متعلق مبینہ غیر مجاز تعمیرات پر نوٹس جاری کرتے ہوئے 15 دن کے اندر نشاندہی کی گئی خلاف ورزیاں دور کرنے کی ہدایت کی ہے۔ معاملہ شہری تعمیراتی قواعد اور منظور شدہ نقشے سے مبینہ انحراف سے متعلق ہے، اور اس مرحلے پر اسے سی ڈی اے کی انتظامی کارروائی اور الزام کے طور پر بیان کرنا ضروری ہے، نہ کہ کسی عدالتی طور پر ثابت شدہ خلاف ورزی کے طور پر۔

سی ڈی اے اسلام آباد میں عمارتوں کی منصوبہ بندی، زمین کے استعمال اور تعمیراتی ضوابط کی نگرانی کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ عمارتوں میں ایسی تبدیلیاں جن کے لیے پیشگی منظوری درکار ہو، ان کے بارے میں ادارہ مالکان یا قابضین کو نوٹس جاری کر سکتا ہے اور قواعد کے مطابق اصلاح یا وضاحت طلب کر سکتا ہے۔ تازہ نوٹس میں متعلقہ تعمیراتی حصوں کو مقررہ مدت میں درست یا ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

یہ پیش رفت سیاسی اہمیت بھی رکھتی ہے کیونکہ رہائش گاہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ سے منسوب ہے۔ تاہم انتظامی نوٹس کو سیاسی نتیجے یا حتمی قانونی فیصلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ متعلقہ فریق کو قواعد کے تحت جواب دینے، دستاویزات پیش کرنے یا دستیاب قانونی و انتظامی راستوں سے اعتراض اٹھانے کا حق حاصل ہو سکتا ہے۔ کسی اگلی کارروائی کا انحصار جواب، ریکارڈ اور سی ڈی اے کے قانونی طریقہ کار پر ہوگا۔

اسلام آباد میں غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کارروائیاں وقتاً فوقتاً مختلف رہائشی اور تجارتی علاقوں میں کی جاتی رہی ہیں۔ ایسے معاملات میں منظور شدہ بلڈنگ پلان، پلاٹ کا مجاز استعمال، سیٹ بیک، اضافی تعمیر اور سرکاری زمین پر ممکنہ تجاوز جیسے نکات دیکھے جاتے ہیں۔ موجودہ معاملے میں خبر کا بنیادی واقعہ نوٹس کا اجرا اور 15 روز کی مہلت ہے؛ ابھی انہدام یا کسی جرمانے کے حتمی نفاذ کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے آئندہ پیش رفت کو سی ڈی اے کے باقاعدہ احکامات اور متعلقہ فریق کے جواب کی روشنی میں دیکھا جائے گا۔