اسلام آباد: پاکستان پولیو خاتمہ پروگرام نے ملک کے 97 ہائی رسک اضلاع میں سال 2026 کی تیسری ذیلی قومی پولیو ویکسینیشن مہم کا آغاز کر دیا ہے، جس کے دوران تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر میں بچوں کو قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کیا۔ عملی ویکسینیشن سرگرمیاں 2 سے 8 نومبر تک جاری رہیں گی۔

پولیو پروگرام کے مطابق یہ 2026 کی پانچویں بڑے پیمانے کی ویکسینیشن سرگرمی اور تیسری ذیلی قومی مہم ہے۔ 97 اضلاع کے انتخاب میں وائرس کی موجودگی، ماحولیاتی نمونوں، آبادی کی نقل و حرکت اور ویکسینیشن میں موجود خلا جیسے خطراتی عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ مہم کے لیے دو لاکھ سے زیادہ فرنٹ لائن پولیو ورکرز متحرک کیے جا رہے ہیں جو گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں تک ویکسین پہنچائیں گے۔

اس بار پاکستان اور افغانستان میں مہم بیک وقت چلانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ سرحد پار آمدورفت کے باعث وائرس کی منتقلی کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔ دونوں ممالک دنیا کے ان چند مقامات میں شامل رہے ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس کی مقامی ترسیل مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔ اسی لیے سرحدی اضلاع، نقل مکانی کرنے والی آبادیوں اور بڑے شہری مراکز میں مسلسل ویکسینیشن اور نگرانی کو اہم سمجھا جاتا ہے۔

وزارت صحت اور پولیو پروگرام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ ہر مہم میں بچوں کو قطرے ضرور پلوائیں، چاہے وہ پہلے بھی متعدد بار ویکسین لے چکے ہوں۔ پولیو ویکسین کی بار بار خوراک بچوں کی قوت مدافعت مضبوط کرنے اور کمیونٹی میں وائرس کی ترسیل روکنے کے لیے دی جاتی ہے۔ مہم کی کامیابی صرف مقررہ ہدف تک پہنچنے سے نہیں بلکہ رہ جانے والے بچوں کی تعداد کم کرنے، انکار کے کیسز حل کرنے اور وائرس کی ماحولیاتی نگرانی کے نتائج سے بھی جانچی جائے گی۔ حکام کے مطابق پولیو کا خاتمہ اس وقت ممکن ہوگا جب ہر خطرے والے علاقے میں مسلسل اعلیٰ ویکسینیشن کوریج برقرار رہے اور وائرس کی ترسیل مکمل طور پر رک جائے۔