مسلسل اپ ڈیٹس

سندھ ہسپتالوں میں خراب تشخیصی آلات — سندھ اسمبلی کی تحقیق

سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے زیر انتظام ہسپتالوں اور صوبے کے دیگر سرکاری طبی مراکز میں طویل عرصے سے غیر فعال ایکسرے، سی ٹی اسکین، الٹراساؤنڈ، ایم آر آئی اور ای سی جی مشینوں کی چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم (CMIT) سے جامع تحقیقات کرانے اور ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ کمیٹی (نثار کھوڑو کی صدارت میں) نے معاملے کی حد کے ایم سی کے علاوہ صوبے کے دیگر ہسپتالوں تک بڑھانے، کے ایم سی کے 13 ہسپتالوں کی صورتحال، سوبھراج میٹرنٹی ہسپتال کی ایکسرے مشین کے 2022–2025 تک خراب رہنے اور حالیہ مرمت سمیت شواہد پر تبادلۂ خیال کیا۔ کمیٹی نے کے ایم سی کے دس ہزار سے زائد ملازمین کی جسمانی تصدیق، ان کی تعلیمی اسناد کی ہائر ایجوکیشن کمیشن سے جانچ اور بائیومیٹرک حاضری کا نظام فوری نصب کرنے کی ہدایت بھی جاری کی؛ اس حکم نامے کا مطلب کسی افسر کے خلاف حتمی بدعنوانی کا فیصلہ نہیں ہے اور سی ایم آئی ٹی کی رپورٹ پر مزید کارروائی کا امکان ہے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

سندھ ہسپتالوں میں خراب تشخیصی آلات — سندھ اسمبلی کی تحقیق | اردو ہیڈ لائنز