اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت جاری قومی شاہراہوں اور موٹرویز کے منصوبوں میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں اور M-6، M-25 اور کوئٹہ ژوب روڈ سمیت اہم منصوبوں پر پیش رفت تیز کی جائے۔ وزارت کی سرکاری تفصیلات کے مطابق یہ ہدایات این ایچ اے کے جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزے کے دوران دی گئیں۔
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ عوامی وسائل پر مشتمل ہے، اس لیے اس کے استعمال میں شفافیت، مالی نظم اور جواب دہی یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے حکام کو منصوبوں کی لاگت میں اضافے، تعمیراتی مقدار اور نرخوں میں تبدیلی اور ٹھیکیداروں کی جانب سے پیش کیے جانے والے اضافی مالی دعوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت کی تاکہ قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔
سرکاری بیان کے مطابق احسن اقبال نے واضح کیا کہ غیر ضروری تاخیر، بلاجواز لاگت میں اضافہ، غیر شفاف مالی دعوے اور کمزور نگرانی قابل قبول نہیں ہوں گے۔ انہوں نے این ایچ اے سے کہا کہ زیر التوا معاملات اور انتظامی رکاوٹوں کو بروقت حل کیا جائے تاکہ منظور شدہ منصوبوں کی تکمیل میں مزید تاخیر سے بچا جا سکے۔
جائزہ اجلاس میں M-6 موٹروے، M-25 اور کوئٹہ ژوب روڈ سمیت مختلف قومی رابطہ منصوبوں کی پیش رفت زیر بحث آئی۔ حکومت ان شاہراہوں کو بین الصوبائی رابطے، تجارت، نقل و حمل اور علاقائی معاشی سرگرمی کے لیے اہم قرار دیتی ہے۔ تاہم کسی منصوبے کی نئی تکمیل تاریخ یا اضافی مالی منظوری کے بارے میں جاری سرکاری بیان میں کوئی ایسی حتمی تفصیل نہیں دی گئی جسے منظور شدہ نتیجہ قرار دیا جا سکے۔
وزیر منصوبہ بندی نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ منصوبوں کی نگرانی مضبوط کی جائے اور سرکاری وسائل کے استعمال میں کارکردگی کو ترجیح دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبہ جاتی فیصلوں میں مالی ذمہ داری اور شفافیت برقرار رکھنا ضروری ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب ترقیاتی بجٹ پر متعدد قومی ترجیحات کا دباؤ موجود ہے۔
این ایچ اے پاکستان کے قومی شاہراہی نیٹ ورک اور اہم موٹروے منصوبوں کی تعمیر و انتظام کا مرکزی ادارہ ہے۔ بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں زمین کے حصول، ٹھیکوں، تعمیراتی لاگت، ڈیزائن میں تبدیلی اور مالی دستیابی جیسے عوامل پیش رفت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تازہ ہدایات میں حکومت نے انہی رکاوٹوں کو دور کرنے کے ساتھ مالی دعوؤں کی جانچ سخت کرنے پر زور دیا ہے۔
سرکاری بیان میں ان ہدایات کو کسی منصوبے کی تکمیل کا اعلان نہیں بلکہ جاری منصوبوں کے انتظام اور رفتار بہتر بنانے کے اقدام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اب عملی پیش رفت کا انحصار این ایچ اے اور متعلقہ اداروں کی جانب سے رکاوٹوں کے حل، مالی نگرانی اور تعمیراتی کام کی رفتار پر ہوگا۔
