راولپنڈی: پاکستان کی فوجی قیادت نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستانی سفارتی کوششوں کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ حالیہ رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بات چیت کے لیے گنجائش موجود ہے، تاہم انہوں نے ثالثی کے عمل میں ہونے والی گفتگو کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
رائٹرز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے رواں ماہ ایران کے دو دورے کیے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان دوروں کو ممکنہ پیش رفت کے تناظر میں اہم قرار دیا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ تازہ دورے کے لیے واشنگٹن کی حمایت حاصل تھی یا فریقین کے درمیان کوئی مخصوص تجویز زیر بحث آئی۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ دورے میں سعودی اور ترک حکام بھی شامل تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خبردار کیا کہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو ایسے عناصر سے خطرہ ہو سکتا ہے جو مفاہمتی عمل کو متاثر کرنا چاہتے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مقصد خطے میں مزید عدم استحکام کو روکنا اور سفارتی راستہ کھلا رکھنا ہے۔ اس بیان کو کسی حتمی معاہدے یا جنگ بندی کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ پاکستانی فوجی ترجمان نے نہ کسی طے شدہ فارمولے کا اعلان کیا اور نہ مذاکرات کے نتیجے کی ضمانت دی۔
انہوں نے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دفاعی انتظام کے بارے میں بھی کہا کہ اس میں مستقبل میں دوسرے ممالک کی شمولیت کا امکان اصولی طور پر خارج نہیں کیا گیا، تاہم ایران سمیت کسی نئے رکن کی شمولیت کا فیصلہ متعلقہ ممالک کی سیاسی قیادت کے دائرہ اختیار میں ہوگا۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی فوجی تعیناتی کا انحصار حالات اور سیاسی فیصلوں پر ہوگا۔
داخلی سلامتی سے متعلق سوالات پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں تیز کی جائیں گی۔ رائٹرز کی رپورٹ میں صوبائی سیاسی صورتحال سے متعلق وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے مؤقف بھی بیان کیے گئے ہیں؛ ان دعوؤں کو فریقین کے مؤقف کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔ مجموعی طور پر فوجی ترجمان کا بیان ایران۔امریکا تنازع میں پاکستان کے فعال سفارتی کردار کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن کسی باضابطہ سمجھوتے کی تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔

